القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور اس کے اتحادی جنگجوؤں نے گذشتہ ماہ صوبہ القنیطرہ میں شامی فوج کے زیر قبضہ علاقوں میں حملوں کا آغاز کیا تھا۔انھوں نے گولان کی چوٹیوں کے علاقے میں اسرائیل کے ساتھ واقع واحد کراسنگ پوائنٹ پر قبضہ کر لیا تھا۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ” انقلابیوں کی پیش قدمی سے قبل شامی فوج ان سرحدی علاقوں سے پسپا ہوگئی تھی۔اب شامی حکومت کا صوبہ القنیطرہ کے قریباً اسّی فی صد قصبوں اور دیہات پرکنٹرول ختم ہوچکا ہے”۔
النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے 28 اگست کو گولان کے علاقے میں تعینات اقوام متحدہ کے مبصر مشن میں شامل پینتالیس امن فوجیوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور انھیں مقامی قبائلیوں کی مداخلت کے بعد جمعرات 11ستمبر کو رہا کیا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی چھے روزہ جنگ کے دوران شام کے گولان کی پہاڑیوں کے بارہ سو مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر 1981ء میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کو تسلیم نہیں کیا تھا۔
شام بھی اپنے اس علاقے پر دعوے سے دستبردار نہیں ہوا ہے۔اس نے 1990ء کے عشرے اور 2008ء میں اسرائیل کے ساتھ اس علاقے کی بازیابی کے لیے مذاکرات بھی کیے تھے لیکن بعد میں 2011ء میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد یہ مذاکرات ختم کردیے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…