انتیس اگست دوہزار چودہ میں زاہدان کی مرکزی نمازجمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: ہفتہ حکومت کے موقع پر ہمیں ماننا پڑے گا کہ قومی سطح پر نئی حکومت نے اچھے کارنامے سرانجام دیاہے۔ نیوکلیئرمذاکرات کے نتیجے میں دشمن کے حملے کا خطرہ ٹل گیاہے اور معاشی پابندیوں کے اثرات کم ہوگئے ہیں۔ امیدہے مستقبل میں تمام پابندیاں ختم ہوجائیں اور ایرانی تاجروں کو کسی رکاوٹ کے بغیر دنیا کی مارکیٹوں میں رسائی مل جائے۔ نیز نیوکلیئر مذاکرات کا آخری نتیجہ قوم کے مفاد میں ہونا چاہیے۔
صوبہ سیستان بلوچستان میں نئی حکومت کی طرف سے بعض میگاپروجکٹس کے آغاز پر اظہارمسرت کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا: ہمارے صوبے کے کاشتکاروں اور کسانوں کے لیے اچھی اور منظم منصوبہ بندی ہونی چاہیے؛ کسانوں کو مناسب مارکیٹ فراہم کرنی چاہیے۔ نیز کارخانوں اور کانوں کو فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے یہاں معاشی ترقی حاصل ہوگی اور بے روزگاری کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔
حکومت آئین کے مکمل نفاذ کے لیے کوشش کرے
ممتاز سنی عالم دین و مہتمم دارالعلوم زاہدان نے اپنے بیان میں حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: گیارہویں حکومت کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ آئین کے مکمل نفاذ کے لیے کوشش کرے جو صدر روحانی کے وعدوں میں ایک تھا۔ آئین ایک قومی معاہدہ ہے جس میں قوم کی تمام اکائیوں کے مفادات کا خیال رکھا گیاہے۔ آئین کے درست اور کامل نفاذ سے پوری قوم کسی حدتک اپنے مطالبات حاصل کرسکتی ہے اور ان کے حقوق کا مسئلہ کافی حدتک حل ہوجائے گا۔ اگر مختلف برادریوں کے حقوق کا خیال رکھاجائے اور حکومت قوم کی آزادیوں کی فراہمی پر کمربستہ ہوجائے، اس سے قومی اتحاد کو استحکام ملے گا۔
قومیتوں اور مسالک پر اعتماد کا انجام قومی اتحاد اور پائیدارامن ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں ایرانی حکام کو ’قومیتوں اور مسالک‘ کے سلسلے میں کیے گئے ان کے ’وعدوں‘ کی یاددہانی کرائی۔
انہوں نے کہا: حکام کو میری نصیحت ہے کہ ’ہفتہ حکومت‘ میں ایران میں بسنے والی قومیتوں اور مسالک کی ملک چلانے میں شرکت پر زیادہ توجہ دیں۔ اگر ایسا کیاگیا تو ملک میں قومی اتحاد کو استحکام ملے گا اور پائیدارامن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ جب عوام کے دل جیتے جائیں تو کوئی انتہاپسند ان کے جذبات کا غلط فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔
اہل سنت ایران کے پرامن اور قانونی طریقہ کار پر تاکید کرتے ہوئے مولانا نے کہا: ایک ایرانی شہری اور مسلمان کی حیثیت سے ہمیں توقع ہے حکومت آئین کے نفاذ کے سلسلے میں کسی گروہ کے دباو ¿میں نہ آئے اور لسانی ومسلکی برادریوںکے حقوق کی فراہمی کے سلسلے میں دباو ¿ڈال کر بات منوانے والوں کے سامنے ڈٹ جائے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے ملک میں تعصب اور فرقہ وارانہ رجحانات کی بڑھوتری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: دنیا کے دیگر علاقوں کی طرح ایران میں تعصب پر مبنی رویوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہاہے؛ ہمیں شکایات موصول ہورہی ہیں کہ مختلف علاقوں میں لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرکے ان کی آزادیوں پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ حکومت کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب چارہ جوئی کرنی چاہیے۔
مغربی سیاستدانوں نے بحران کی شدت سے پہلے کیوں بچاو ¿کی کوشش نہیں کی؟
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے مسلم ممالک میں مغربی حکام کی دوغلی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: طاقت اور جاہ ومقام کے دلدادہ حکام اپنی طاقت بڑھانے کے لیے کسی بھی ظلم و بربریت سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ یہ درندہ صفت حکام کا گمان ہے کوئی ان کے برے کرتوتوں اور حرکتوں سے آگاہ نہیں ہے، حالانکہ ہمارے پاس اگر طاقت نہیں عقل اور سمجھ ضرور ہے؛ دنیا والے دیکھ رہے ہیں مظلوموں کے ساتھ کیا سلوک ہورہاہے۔ مسلمانوں کو اچھی طرح معلوم ہے امریکا اور یورپی طاقتیں کن جرائم کا مرتکب ہورہی ہیں۔
بعض مسلم ممالک میں امریکی و مغربی مداخلت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: امریکا اب شام اور عراق میں خیرخواہی کے بہانے پر دوبارہ اسٹیج پر آچکاہے؛ سوال یہ ہے ان ملکوں میں نہتے شہری کئی مہنیوں اور سالوں سے کرب وبلا میں دچار ہیں اور قتل عام ہورہے ہیں، اس سے پہلے یہ کہاں تھے؟ کیوں مغربی طاقتوں نے اس سے قبل کوئی اقدام نہیں اٹھایا چنانچہ اب شدت پسند گروہوں نے جڑ پکڑلیاہے۔ اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی بنیاد کیوں رکھی گئی؟کیا انہیں افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں آتا؟
فلسطین پر قبضہ؛ ’دہشت گردی کے فروغ‘ کی جڑ
بات آگے بڑھاتے ہوئے خطیب اہل سنت نے فلسطین پر صہیونی ریاست کے قبضے کو دہشت گردی کی جڑ اور اس کے فروغ کی اصل وجہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا: امریکا، اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل اگر واقعی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے دہشت گردی کی جڑ ’ارض فلسطین پر اسرائیلی قبضہ‘ ہے۔ عشروں سے فلسطینی مسلمان صہیونی ریاست کی بربریت اور ظلم وستم کے لیے تختہ مشق بن چکے ہیں۔ جب انہیں قتل عام کیاجاتاہے، ان کے گھروںکو مسمار کرکے ان کی بات نہیں سنی جاتی ہے تو خودبخود خطے میں دہشت گردی پھیل جاتی ہے۔
دہشت گردی کے باعث اور بانی وہی ہیں جو اس سے مقابلے کے دعوی کرتے تھکتے نہیں۔ دہشت گردی اور عسکریت پسندی ظلم وستم اور آمریت سے جنم لیتی ہے۔ ایک طرف سے اسرائیل کو پچاس دنوں تک فری ہینڈ دیا گیا تاکہ اپنی مرضی سے اہل غزہ کا قتل عام کرے اور دوسری طرف دہشت گردی کے مقابلے کا عزم بھی ظاہر کیاجاتاہے۔ یہ کھلا تضاد ہے۔
’انصاف کی فراہمی‘ کو دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے بہترین نسخہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا: اگر دنیا والے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد اور بہترین طریقہ ’انصاف کی فراہمی‘ ہے۔ اگر شام وعراق میں عوام کو انصاف مل جاتا آج وہاں شدت پسند گروہ جڑ نہیں پکڑسکتے۔ معلول سے مقابلے کے بجائے علت سے لڑنا چاہیے۔
اپنے خطاب کے آخر میں عالم اسلام کے متعدد مسائل ومشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے تفرق اور فرقہ پسندی سے اجتناب اور باہمی گفت وشنید پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم حکام اور دانشور عالم اسلام کی مشکلات کے حل کے لیے ایک ساتھ بیٹھ نہیں سکتے اور مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت کی خاطر معقول اور سنجیدہ کوششیں دیکھنے میں نہیں آرہی ہیں۔
تمام فرقہ پرست سیٹلائیٹ ٹی وی چینلوں کے دفاتر بند کرنا چاہیے
ایران میں بعض فرقہ پرست سیٹلائیٹ ٹی وی چینلوں کی بندش پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے فرقہ واریت کو ہوا دینے والے چینلوں کی بندش پر حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا: یہ ایک اچھا اور امیدافزا اقدام ہے۔ تمام ذرائع ابلاغ جو فرقہ واریت کی تقویت پر گامزن ہیں، انہیں لگام لگانا چاہیے۔ ہمیں توقع ہے بعض دیگر سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز جن کا کام دن رات کردارکشی اور فرقہ واریت ہے، اور وہ آزادی سے کام کررہے ہیں، ان کو بھی روک دیا جائے۔
بات جاری رکھتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے تمام ذرائع ابلاغ کے مالکان اور ذمہ داروں سے اپیل کی مختلف مسالک کا احترام کریں اور کسی بھی مذہب ومسلک کے پیروکاروں کو اکسانے سے پرہیز کریں۔ نیز مختلف مکاتب فکر کی مقدسات کی توہین سے گریز کرنا چاہیے۔
مسلمانوں کی تکفیر کو شریعت کے تقاضوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے صدر شورائے مدارس اہل سنت نے کہا: کسی مسلمان کے لیے مناسب اور جائز نہیں کہ وہ دیگر مسلمانوں کو کافر کہہ کر بیٹھے؛ یہ شریعت کے خلاف ہے۔ ہرحال میں اعتدال کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اسلام کے رو سے تمام مسلمانوںکی جان ومال اور عزت محفوظ ہیں۔ امیدہے مسلمان اسلام کی طرف لوٹ جائیں اور ایک دوسرے کے حقوق ضائع کرنے سے گریز کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…