ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے انتہاپسندی و شدت پسندی کی بیخ کنی کے لیے سب سے پہلے ظلم اور ناانصافی کے خاتمے کو ضروری قرار دیاہے۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق زاہدان شہر میںسترہ اگست دوہزار چودہ کو منعقد ’بین الاقوامی کانگریس برائے تکفیری وانتہاپسندعناصر علمائے اسلام کی نظر میں‘ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: عالم اسلام کے اتحاد اور اسلام ومسلمانوں کے مفادات کو سب سے بڑا خطرہ شدت پسندی، انتہاپسندی اور تکفیر سے ہے۔ اعتدال کی راہ سے انحراف و دوری کا مطلب ہے انتہاپسندی و شدت پسندی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطاب میں اسلام کو ’اعتدال‘ و میانہ روی کا دین قرار دیتے ہوئے کہا: اسلام میانہ روی کا دین ہے اور جب تک ہم اعتدال کی راہ پر نہیں چل پڑیں گے تو اللہ تعالی کی رضامندی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اعتدال کی راہ دنیا وآخرت کی سعادت پر جاکر ختم ہوتی ہے۔
انتہاپسندانہ سوچ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا: صدراسلام سے لیکر اب تک انتہاپسندانہ سوچ اور رجحانات عالم اسلام میں موجود تھے۔ خوارج بزرگان دین اور صدراسلام کے مسلمانوں کی تکفیر کیا کرتے تھے۔ شروع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑائی کے بجائے گفتگو کی اور مناظرے کے لیے ایک وفد بھیجا، جب وہ نہ مانے اور مسلمانوں کی جان ومال پر دست درازی پر اتر آئے تو آپ نے تلوار سے مقابلہ کیا۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: گرچہ صدراسلام میں ’خوارج‘ تکفیر وانتہاپسندی میں سب سے آگے تھے، لیکن معاصردور میں مصر میں اس تحریک نے نئی جان لی۔ مصر میں تکفیر کا رجحان اس وقت بڑھ گیا جب جابر مصری حکام نے اسلام پسندوں پر ظلم وجبر کی انتہا کردی اورانہیں دبانے کے لیے کشت وخون سے کام لیا۔ ان اقدامات کی وجہ سے بعض درشت خو اور سخت لوگ تکفیری سوچ کے حامل بن گئے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا: تکفیری گروہ عام طور پر مسلم حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں اور ان کا استدلال بعض آیات کے ظاہری معنوں سے ہے۔ وہ اپنے دعوی ثابت کرنے کے لیے نصوص کے بعض حصوں سے دلیل پکڑتے ہیں اور بعض دیگر حصوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ حتی کہ بعض انتہاپسند تکفیری فقہ میں ائمہ و بزرگوں کی تقلید کو شرک سمجھتے ہیں اور کروڑوں مسلمانوں کو مشرک قرار دیتے ہیں۔
مولانا نے مزیدکہا: مسلمانوں کو ہوشیار رہنا چاہیے؛ دشمن انتہائی چالاکی سے شدت پسند گروہوں کو اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کے خلاف استعمال کرتاہے۔ وہ مخلص مگر رواداری سے بیزار نوجوانوں اور افراد کے جذبات کا غلط فائدہ اٹھاکر اپنے مذموم مقاصد پورے کرتے ہیں۔ عراق میں دوہزار تین میں اگرچہ بظاہر ایک آمر حکمران کو ہٹایاگیا لیکن اس کے بعد جمہوریت کے بجائے عراقی عوام کے حصے میں اب تک خون خرابے کے سوا کچھ نہیں آیاہے اور فرقہ وارانہ فسادات نے اس ملک کو تقسیم کی دہلیز تک پہنچایاہے۔
تکفیری عناصر اور افکار کی جڑوں کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: ہمارے خیال میں تکفیر و شدت پسندی کی جڑیں ظلم، حق تلفی، امتیازی سلوک اور ناانصافی جیسی چیزیں ہیں اور شدت پسندی کا مقابلہ ان مسائل کی بیخ کنی سے ممکن ہے۔ لہذا انصاف کی فراہمی، امتیازی رویوں اور ظلم کا خاتمہ کرکے کشادہ دلی سے اس ناپسند درخت کی جڑوںکو خشک کرنا چاہیے۔
مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اتفاق پر زور دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا فرقہ واریت اور انتشار سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ ان کی تذلیل ہوتی ہے۔ لہذا وحدت کی صیانت کرنی ہوگی اور دوسروں کو کافر بنانے کے لیے دن رات کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے ایک دوسرے کی مقدس شخصیات ومقامات کا احترام کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…