رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کو خوراک، ادویات، پینے کا صاف پانی اور موسم کی ضروریات کے حوالے سے سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقوق “اوچا” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں گھروں سے محروم ہونے اور بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے دو لاکھ اٹھارہ ہزار باشندے اقوام متحدہ کے زیرانتظام 87 اسکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں ایک لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے محروم ہوچکے ہیں۔ ان کی آباد کاری اسی وقت ممکن ہوگی جب ان کے گھر دوبارہ تعمیر کیے جاسکیں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کشی کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں 230 اسکول بھی تباہ کیے گئے۔ جن میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی “اونروا” کے 90 اسکول بھی شامل ہیں۔ ایجنسی کے زیرانتظام 25 اسکول مکمل طور پر زمیں بوس کردیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی کے 17 ہزار خاندانوں کی فوری ضروریات کے لیے کم سے کم 68 ملین امریکی ڈالر کی رقم درکار ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…