وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے اتوار کی شب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں سے مذاکرات کے لیے الگ الگ کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں جن میں پارلیمان میں موجود جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے کے بارے میں اعلان اس وقت ہوا ہے جب تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے کلِکسول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے کے لیے دو دن کی مہلت دی ہے۔
اس سے قبل سنیچر کی شب عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری حکومت کو مستعفی ہونے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے چکے ہیں۔
پریس کانفرنس میں چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کے پاس آزادی اور انقلاب مارچ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی گنجائش تھی لیکن انھیں ’فری ہینڈ‘ دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کی تقریر سن کر انھیں دکھ ہوا: ’دھرنا اور اس کے مقاصد تو ایک طرف، میں حیران ہوں کہ انھیں سول نافرمانی کی تجویز کس نے دی اور اس سے بڑھ کر حیران ہو کہ انھوں نے اسے پی ٹی آئی کی پالیسی بنا لیا اور اس کا اعلان کر دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سول نافرمانی حکومت کے خلاف کم اور ریاست کے خلاف زیادہ ہوتی ہے۔‘
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سول نافرمانی ملک پر غیر ملکی تسلط کے خلاف کی جاتی ہے اور’اس ملک میں چار مرتبہ مارشل لاء لگا ہے مگر تب بھی نہ سول نافرمانی کا مطالبہ سامنے آیا نہ روایت ڈالی گئی۔‘
انھوں نے عمران خان اور طاہر القادری کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ ان کی ہر قانونی و آئینی بات ماننے کو تیار ہیں لیکن ان کے لیے پارلیمان کا راستہ اختیار کیا جائے۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت نے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر فیصلہ کیا ہے کہ کل (پیر کو) عوامی تحریک اور تحریکِ انصاف سے مذاکرات کے لیے دو علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
انھوں نے بتایا کہ حکومت سب سے مشاورت کر رہی ہے اور ’یہ کمیٹی حکومت کی کمیٹی نہیں ہوگی اسے سیاسی جماعتوں کی کمیٹی کہا جائے۔‘
وزیرِ داخلہ نے کہا مسلم لیگ نواز بھی بقیہ جماعتوں کی طرح دونوں کمیٹیوں کے لیے اپنے ارکان نامزد کرے گی اور ’ کل باقاعدہ طور پر ان کا اعلان ہو جائے گا اور کل ہی یہ کام شروع کر دیں گی۔‘
انھوں نے عمران خان اور طاہر القادری سے کہا کہ وہ ان سے پاکستان کے نام پر درخواست کرتے ہیں کہ سیاسی لڑائی چلتی رہے گی لیکن اس کے دائرۂ کار کا تعین ہونا چاہیے کیونکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نہیں چل سکتا۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…