انہوں نے کہا: عالم اسلام میں انتہاپسندی اور شدت پسندی کا وجود ناقابل انکار ہے اور اسی بلا کے نتیجے میں مسلم امہ متعدد مسائل اور خطرات سے دوچار ہے۔ مغرب سمیت دیگر غیرمسلم ممالک میں اسلام اور اسلامی تعلیمات کا چرچا ہے اور لوگ جوق درجوق مشرف بہ اسلام ہورہے ہیں۔ دوسری جانب عالم اسلام میں بھی اسلامی بیداری کی لہر اٹھ چکی ہے؛ ایسے میں اسلام دشمن عناصر زیادہ سرگرم ہوتے ہیں۔ اسلام کے دشمنوں کی کوشش ہے مسلمان آپس میں دست وگریبان ہوں تاکہ اسلام کے پھیلاو کا انسداد آسان ہو۔
خطیب اہل سنت نے ’مذہبی، لسانی اور قبائلی لڑائیوں‘ کے ابھار اور شدت کو اسلام دشمن عناصر کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا: عالمی سامراجی طاقتوں کے لیے مسلمانوں کی بیداری کی لہر ناقابل قبول ہے۔ اسی لیے وہ اندرونی لڑائیوں کو شدت دیتے ہیں اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے درپے ہیں۔ عراق کے حالات نے بھی تمام مسلمانوں کو پریشان کیاہے۔ عراق اب تقسیم کے خطرے سے دوچار ہوچکاہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ اہم ملک کمزور ہوجائے گا۔
عراقی علمائے کرام، دانشوروں اور سیاستدانوں کو مخاطب کرتے ہوئے رکن ’عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘ نے کہا: میرا پیغام عراقی قوم اور ان کے علما، دانشوروں اور سیاستدانوں کے نام یہ ہے کہ اپنے ملک کو تقسیم سے بچائیں۔ جب عراق متحد ہوگا تب ایک طاقت ور ملک ہوسکے گا۔ اگر عراق تقسیم ہوا اور شیعہ وسنی، عرب وکرد اور ترکمن ساتھ نہ بیٹھ سکے تو اسرائیل سمیت دیگر استعماری طاقتیں خوش ہوں گی۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: مسلمانوں کو چاہیے ایک دوسرے کو برداشت کریں اور رواداری و مکالمے سے اپنے مسائل حل کرائیں۔ لڑائی اور تشدد ہرگز کسی حل اور کامیابی تک پہنچنے کے راستے نہیں ہیں۔ رواداری اور مذاکرات کی راہ اختیار کریں۔ یہ بہت بڑی کم بختی و شامت ہے کہ مختلف اقوام، مسالک ومذاہب اور گروہ ایک دوسرے کو برداشت نہ کرسکیں۔ جو دوسروں کو برداشت کرتے ہیں وہ تہذیب یافتہ ہیں۔ میرا خیال ہے جو دوسروں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں وہ تہذیب اورثقافت وتمدن سے عاری لوگ ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: جس طرح انتہاپسندی و شدت پسندی مسلمانوں اور عالم اسلام کے لیے خطرناک ہیں، بالکل اسی طرح تنگ نظری اور کوتہ بینی کسی معاشرے اور ملک کے لیے خطرناک ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ بہت سارے لوگ دوسروں کو کسی حق کا مستحق نہیں سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نقصان انتہاپسندوں سے کم نہیں ہے۔ لہذا سب کی نگاہیں ’قومی‘ و ’اسلامی‘ ہونی چاہییں۔ کوئی محض اپنے گروہ، فرقہ اور قومیت کے خاطر فیصلہ نہ کرے؛ سب کے مفادات اور حقوق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ کسی کو سنی یا شیعہ ہونے کی وجہ سے اس کے حقوق سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں مسلم ممالک کے سربراہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: بندہ اس چھوٹے سٹیج سے مسلم حکام اور علما ودانشوروں کو ندا دیتاہے، آپ شیعہ ہوں یا سنی عرب ہوں یا عجم، آپ کا تعلق جس مسلک اور قومیت سے ہو، موجودہ حالات کے تناظر میں اپنا موقف تبدیل کریں اور نئی حکمت عملی اختیار کریں۔ مختلف حالات کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں؛ موجودہ حالات میں رواداری اور باہمی گفت وشنید کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ جن ممالک میں سیاسی بحران ہے وہاں قومی حکومت بنانے سے مسائل پر قابو پایاجاسکتاہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…