Categories: مشرق وسطی

عراق: تکریت میں عسکریت پسندوں سے تازہ جھڑپیں

عراق میں عسکریت پسند تنظیم داعش کی جانب سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خلافت کے اعلان کے ایک دن بعد تکریت کے اطراف میں فوج اور عسکریت پسندوں میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر پر فضائی حلموں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں سابق صدر صدام حسین کے محل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مقامی ذرائع نے بتایا کہ باغیوں نے جوابی حملے میں تکریت کے قریب واقع ایک فوجی اڈے کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
یہ تازہ ترین جھڑپیں اسلامی عسکریت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کے اس اعلان کے ایک دن بعد ہوئی ہیں جس میں تنظیم نے عراق اور شام میں اپنے زیر اثر علاقوں میں خلافت کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران عراقی فوج نے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ انقلابیوں نے فوجیوں کے اس قافلے کو مار بھگایا ہے جو فوجی اڈے کی مدد کو آ رہا تھا۔
اتوار کو خلجافت کے اعلان کے ساتھ داعش کی جانب سے تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو ’مسلم امہ کا خلیفہ‘ مقرر کیا گیا تھا۔
داعش نے یہ اعلان انٹرنیٹ پر ایک آڈیو پیغام میں کیا تھا۔
داعش کے اعلان کے مطابق خلافت کا نفاذ شام کے شہر حلب سے عراق کے شہر دیالہ تک ہے۔ اعلان کے مطابق ابوبکر البغدادی اس علاقے کے رہنما ہوں گے اور ان کو ’خلیفہ ابراہیم‘ کے نام سے پکارا جائے گا۔
آڈیو پیغام میں داعش نے تمام مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے رہنما سے اطاعت کا حلف لیں اور ’جمہوریت اور دیگر مغربی گندگیوں کو مسترد کریں۔‘
جس علاقے میں خلافت کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے اس کے نام کے بارے میں داعش کا کہنا ہے کہ اس کا نام ’اسلامی ریاست‘ ہے۔
تکریت کے لیے لڑائی
عراق میں سنّی انقلابیوں سے شمالی شہر شہر تکریت پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف سرکاری فوج نے شدید لڑائی کے بعد پسپا ہونے کے بعد دوبارہ کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔
واضح رہے کہ عراقی فوج نے سنیچر کو ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور فضائی امداد کے ساتھ شہر پر حملہ کیا تھا اور اسے شدید مزاحمت پر پسپا ہونا پڑا۔
اس سے پہلے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب کی افواج کو شدید نقصانات اٹھانا پڑے جبکہ سرکاری فوج نے تکریت سے پسپائی کی ہے اور جنوب میں واقع دجلہ شہر کی جانب واپس ہو گئی ہے۔
دوسری جانب عراق کا کہنا ہے کہ اسے روس سے جنگی طیاروں کی پہلی کھیپ مل گئی ہے جسے اس نے سنّی انقلابیوں کے خلاف لڑنے کے لیے منگوایا ہے۔
عراقی سکیورٹی حکام نے کہا کہ ہفتہ کو ملنے والے پانچ سکوئی نامی جنگی طیارے کچھ ہی دنوں میں ملکی فضائیہ میں شامل ہو جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ باقی ماندہ طیاروں کی کھیپ بھی جلد ہی پہنچنے والی ہے۔
دوسری جانب روسی خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ عراق کے ہوائی اڈے پر دس طیارے پہنچ گئے ہیں۔
عراق کے شمال مغربی علاقوں میں انقلابیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عراق کو ان جنگی طیاروں کی ضرورت تھی۔

بی بی سی اردو

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago