برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ہفتے کے روز اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اسلامی انقلابیوں نے شہر کے قدیم حصے میں واقع الزہراوی مارکیٹ میں سرنگ کو دھماکے سے اڑایا ہے۔
صدر بشار الاسد کی وفادار فوج کے خلاف جنگ لڑنے والے شامی انقلابیوں کے اتحاد محاذ اسلامی نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو کا لنک پوسٹ کیا ہے۔ اس میں ایک زوردار دھماکا ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے نتیجے میں ملبے سے گرد اور دھواں بلند ہو رہا ہے۔
آبزرویٹری کے مطابق دھماکے کے بعد شامی فوج اور انقلابیوں کے درمیان جھڑپ شروع ہو گئی تھی جس میں ایک انقلابی مارا گیا ہے۔ واضح رہے کہ محاذ اسلامی نے حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ فوجیوں پر حملوں کے لیے سرنگوں کے ذریعے دھماکے کیے ہیں۔
حلب کے تاریخی قدیم حصے میں شامی فوج اور انقلابی جنگجوؤں کے درمیان کم وبیش روزانہ کی بنیاد پر جھڑپیں ہورہی ہیں اور فوج نے جگہ جگہ پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔حلب میں جولائی 2012ء سے اسدی فوج اور انقلابیوں کے خلاف شدید لڑائی ہو رہی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…