حسنی مبارک کے طویل آمرانہ اقتدارکے خاتمہ پرجمہوری طورپرمنتخب مرسی حکومت کوفوج کے ذریعہ جس طرح زورزبردستی کے ساتھ ختم کردیاگیااوراس کے بعدسے مرسی حامیوں اور اخوان المسلمین کے کارکنان اورقائدین کے ساتھ جومسلسل مظالم،قتل وغارت گری اورجبرواستبدادکابرتاؤ کیاجارہاہے اس نے پورے مصرکوآتش فشاں میںتبدیل کردیاہے اورپوراملک خانہ جنگی کے دہانے پرپہونچ چکاہے اورحال ہی میں مصری عدالت نے سینکڑوں اخوانی قائدین اورحامیوں کے لئے سزائے موت کا جوفیصلہ سنایاہے وہ عدل وانصاف کے قطعامنافی اورسیاسی انتقام کا بدترین نمونہ ہے۔
ہونایہ چاہئے تھاکہ عدل وانصاف اورانسانی حقوق کے مخالف اقدامات پر مصرکے پڑوسی عرب ممالک نہ صرف یہ صدائے احتجاج بلندکرتے بلکہ اپنااثرورسوخ استعمال کرکے مصری فوج اوراخوان المسلمین کے درمیان مفاہمت پیداکرانے کی کوشش کرتے لیکن دنیانے حیرت کے ساتھ یہ خبرسنی کہ اکثرعرب ممالک بالخصوص سعودی عرب نے برسرعام مصری فوج کی حمایت کی اوراخوانیوں کے قتل عام پر اس کی بھرپورتائیدکی ۔سعودی عرب کی حکومت اوراس کے حکمرانوں سے،خادم حرمین شریفین ہونے کے ناطے ہرمسلمان ایک جذباتی رشتہ رکھتاہے اوربالخصوص حرمین شریفین کی توسیع،حجاج ومعتمرین کے لئے سہولیات فراہم کرنے اورخطہ میں امن وامان کے قیام میں سعودی حکومت کی بے نظیر خدمات کاہرشخص اعتراف کرتاہے لیکن نہ معلوم کن وجوہات کی بناپرسعودی حکومت نے ماضی کی تمام روایات کوپس پشت ڈالتے ہوئے اخوان المسلمین کے خلاف جس طرح کاسخت رویہ اپنایاہے وہ ناقابل فہم اورنہایت افسوسناک ہے۔جس کے مستقبل میں بہت ہی منفی نتائج نکل سکتے ہیں۔
اس لئے یہ اجلاس عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب سے اپیل کرتاہے کہ وہ مصر اوراخوان المسلمین کے بارے میں اپنی پالیسی پرنظرثانی کرے۔اورمصر کے حالات درست کرنے میں مثبت اورمؤثرکرداراداکرے۔
بصیرت آن لائن
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…