غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت بغداد میں حضرت علی ؓ کے یوم ولادت کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں سیکڑوں افراد جمع تھے کہ اس دوران اجتماع کے قریب کھڑی کار میں نصب بارودی مواد دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ دوسرا دھماکا صدر کے علاقے میں کھڑی کار میں ہوا جس میں 4 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے جب کہ تیسرا دھماکا صدر کے ہی رہائشی علاقے میں کیا گیا جہاں کار میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے متعدد گاڑیوں کو آگ لگ گئی جس کی زد میں آکر 2 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔
دوسری جانب ضلع جمیلہ کے کمرشل علاقے میں کھڑی کار میں دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے، یکے بعدیگرے دھماکوں کے بعد حکام نے ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کے احکامات جاری کردیئے تاہم حملوں کی ذمہ داری کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…