غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت بغداد میں حضرت علی ؓ کے یوم ولادت کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں سیکڑوں افراد جمع تھے کہ اس دوران اجتماع کے قریب کھڑی کار میں نصب بارودی مواد دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ دوسرا دھماکا صدر کے علاقے میں کھڑی کار میں ہوا جس میں 4 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے جب کہ تیسرا دھماکا صدر کے ہی رہائشی علاقے میں کیا گیا جہاں کار میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے متعدد گاڑیوں کو آگ لگ گئی جس کی زد میں آکر 2 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔
دوسری جانب ضلع جمیلہ کے کمرشل علاقے میں کھڑی کار میں دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے، یکے بعدیگرے دھماکوں کے بعد حکام نے ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کے احکامات جاری کردیئے تاہم حملوں کی ذمہ داری کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔
ایکسپریس نیوز
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…
حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…