غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت بغداد میں حضرت علی ؓ کے یوم ولادت کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں سیکڑوں افراد جمع تھے کہ اس دوران اجتماع کے قریب کھڑی کار میں نصب بارودی مواد دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ دوسرا دھماکا صدر کے علاقے میں کھڑی کار میں ہوا جس میں 4 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے جب کہ تیسرا دھماکا صدر کے ہی رہائشی علاقے میں کیا گیا جہاں کار میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے متعدد گاڑیوں کو آگ لگ گئی جس کی زد میں آکر 2 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔
دوسری جانب ضلع جمیلہ کے کمرشل علاقے میں کھڑی کار میں دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے، یکے بعدیگرے دھماکوں کے بعد حکام نے ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کے احکامات جاری کردیئے تاہم حملوں کی ذمہ داری کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…