Categories: مشرق وسطی

شام کے لیے عالمی ایلچی الاخضرالابراہیمی مستعفی

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے مشترکہ ایلچی الاخضرالابراہیمی نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے منگل کو ایک بیان میں الاخضرالابراہیمی کے استعفے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ وہ 31 مئی کو اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔
الاخضر ابراہیمی کو دو سال قبل اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی جگہ شام کے لیے خصوصی عالمی ایلچی مقرر کیا گیا تھا۔تب انھوں نے کہا تھا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ اور مشکل مشن ہوگا۔وہ اپنی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں شام میں جاری بحران کے حل کے لیے اسد حکومت اور حزب اختلاف کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہے تھے۔یہ اور بات ہے کہ فریقین کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کے دو ادوار میں تنازعے کے حل لیے کوئی سجھوتا نہیں طے پاسکا تھا۔
البتہ جنیوا میں فروری میں منعقدہ مذاکرات کے آخری دور میں شامی حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں انھیں واحد کامیابی یہ ملی تھی کہ فریقین نے وسطی شہر حمص میں ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا اور اس دوران وہاں پھنسے ہوئے ہزاروں شہروں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

وہ حالیہ ہفتوں کے دوران شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کی بحالی کے لیے پس پردہ کوششیں کرتے رہے تھے لیکن ان کی تمام امیدیں شامی حکومت کی جانب سے 3 جون کو صدارتی انتخابات کرانے کے اعلان کے ساتھ ہی دم توڑ گئی تھیں کیونکہ جنیوا مذاکرات میں شام میں عبوری انتقال اقتدار پر زوردیا گیا تھا اور شامی حزب اختلاف نے مزید بات چیت کے لیے صدر بشارالاسد کی رخصتی کی شرط عاید کی تھی لیکن وہ ان انتخابات میں ایک مرتبہ پھر صدارتی امیدوار ہیں۔
الجزائر سے تعلق رکھنے والے بزرگ سفارت کار کو اب اگر شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے رویے سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو ماضی میں وہ عرب لیگ کی جانب سے شامی حزب اختلاف کی حمایت اور اس کو نشست دینے سے دلبرداشتہ ہوئے تھے۔اس اقدام سے ان کی شامی بحران کے حل کے لیے امن کوششوں کو دھچکا لگا تھا اور ان کی غیر جانبدارانہ حیثیت متاثر ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال بھی الاخضر الابراہیمی کے مستعفی ہونے کی افواہیں گردش کرتی رہی تھیں اور ان کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں کیونکہ وہ شامی بحران کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی ڈیڈلاک سے مایوس ہو گئے تھے لیکن انھوں نے بین کی مون کے اصرار پر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ثالث کار کی حیثیت سے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھی تھیں۔

شامی بحران کے حوالے سے ان کا موقف رہا ہے کہ اس کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔انھوں نے گذشتہ سال ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اب شامیوں کے درمیان بہت سے پیچیدہ مسائل پیدا ہوچکے ہیں اور انھیں ایک دوسرے سے تنازعے کے حل کے لیے بات چیت کرنی چاہیے۔وہ ماضی میں متعدد مرتبہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ شام میں جاری بحران کا اب بھی سیاسی حل ممکن ہے لیکن یہ وقت کے ساتھ بہت پیچیدہ ہوگیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago