ترکی کے وزیرِ توانائی تانر یلدیز نے ٹیلی ویژن پر ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے وقت کان میں 780 سے زیادہ کان کن موجود تھے۔
انھوں نے کہا کہ کان میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابی کی وجہ سے دھماکہ ہوا اور اس کے نتیجے میں کان میں نصب لفٹس اور تازہ ہوا پہنچانے کا نظام بند ہو گیا۔
اس وقت کان اور مقامی ہسپتال کے باہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہے۔
امدادی کارکن کان میں اب بھی پھنسے ہوئے سینکڑوں کان کنوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کان میں آکسیجن پمپ کی جا رہی ہے۔
دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں تاہم جس جگہ یہ کان کن پھنسے ہوئے ہیں وہ زمین سے دو کلومیٹر نیچے اور کان کے منہ سے چار کلومیٹر دور ہے۔
مقامی اہلکار محمد بہتن آتچی نے بتایا کہ اس نجی ملکیتی کان میں بھرے دھویں کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
این ٹی وی کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیرِ توانائی تانر یلدیز نے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے سوما روانگی سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہلاکتوں کے بارے میں مختلف اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔ میں کوئی تعداد نہیں بتانا چاہتا۔ ہمیں پہلے زیرِ زمین پھنسے کان کنوں تک پہنچنا ہوگا۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیشتر صنعتی ممالک کے مقابلے میں ترکی میں کوئلے کی کانوں کا حفاظتی ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں۔
ترکی میں کان کنی کے حوالے سے بدترین حادثہ 1992 میں پیش آیا تھا جب بحیرۂ اسود کے قریب واقع کان میں حادثے سے 270 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…