جنوبی کوریا: غرقاب کشتی کے حوالے سے تنقید، وزیراعظم مستعفی

جنوبی کوریا کے وزیراعظم چنگ ہانگ ون نے اعلان کیا ہے کہ حال ہی میں غرقاب ہونے والی کشتی کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر تنقید کے پیشِ نظر وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

اس کشتی پر 476 افراد سوار تھے اور جب کشتی ٹیڑھی ہونے کے بعد غرقاب ہوئی تو 174 مسافروں کو بچا لیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد جنوبی سیول کے ایک سکول کے طلبا اور اساتذہ تھے۔
سیول نامی یہ ’فیری‘ شمال مغربی علاقے انچیون سے جنوبی سیاحتی جزیرے جیجو کی طرف جا رہی تھی کہ دو گھنٹے کے قلیل وقت میں الٹ کر سمندر کی تہہ میں غرق ہوگئی۔
اب تک 183 لاشیں نکال لی گئی ہیں تاہم سینکڑوں لاپتہ افراد کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔
حادثے کا شکار ہونے والے افراد کے لواحقین کئی مرتبہ امدادی کارروائیوں کی سست روی کے بارے میں شکایات کرتے رہے ہیں۔
غرقاب ہونے والی مسافر بردار کشتی کے جہاز رانی سے منسلک 15 رکنی عملے کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف مجرمانہ غفلت کے الزامات بھی ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ وہ استعفیٰ پہلے دینا چاہتے تھے تاہم حادثے سے نمٹنا اس وقت زیادہ اہم تھا اور ان کے خیال میں جانے سے پہلے امدادی کام کروانا ذمہ دارانہ رویہ تھا۔
’مگر اب میں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم میں کسی انتظامیہ پر بوجھ نہ بنوں۔‘
حادثے کے اگلے روز جب وزیراعظم سوگوار والدین سے ملاقات کے لیے گئے تھے تو ان کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور کسی انھیں پانی کی ایک بوتل مارنے کی کوشش کی۔
جمعے کے روز غوطہ خوروں کو 30 افراد کی گنجائش والے کمرے میں لائف جیکٹ پہننے 48 طلبہ کی لاشیں ملی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک کمرے سے اتنے سارے لوگوں کی لاشیں ملنے کا مطلب ہے کہ ان میں سے بہت کو کشتی کے ٹیڑھا ہونے پر کمرے میں بھاگ کر جانا پڑا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کشتی کے 111 کمروں میں سے ابھی تک 35 کمروں کی ہی تلاشی لی جا سکی ہے
کشتی میں تلاش کے عمل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ عمل کب تک مکمل ہوگا۔
بحریہ کے کپتان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اعصاب شکن کام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لاشوں کو نکال کر لانے سے کہیں زیادہ مشکل کام انہیں تلاش کرنا ہے کیونکہ غوطہ خور ایک وقت میں دس منٹ سے زیادہ کشتی کے اندر نہیں رہ سکتے۔
ایک غوطہ خور کا کہنا ہے کہ جب آپکے ارد گرد ہر چیز تیر رہی ہو تو یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہوتا ہے کہ آپ کہاں ہیں۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago