عصائب اھل الحق پارٹی کی ریلی پر ہونے والے اس حملے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب عراق کے پارلیمانی انتخابات میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔
عراق اس وقت 2008 کی خانہ جنگی کے بعد بدترین تشدد کا شکار ہے۔
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جب ریلی اختتام پذیر ہو رہی تھی اسی وقت تین دھماکے ہو گئے۔
پہلے دو دھماکے ٹرکوں میں نصب بموں کے تھے جبکہ تیسرا دھماکہ سڑک کنارے نصب بم سے ہوا۔
عصائب اھل الحق کی ایران کی حمایت حاصل ہے اور یہ شام کے صدر بشار الاسد کی بھی حامی ہے۔
عصائب اھل الحق کے رہنما وہاب الطائی کا کہنا تھا کہ ’یہ عمل بوکھلاہٹ کی نشانی ہے اور یہ سب ہمیں آگے بڑھنے اور مقابلہ کرنے سے نہیں ہو سکتا۔ وہ لوگ ہمیں پیغام دینا چاہتے تھے اور انہوں نے ایسا کر دیا لیکن یہ ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔‘
سنہ 2011 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق میں بدھ کو پہلی مرتبہ پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔
ملک کی 328 نشستوں پر سے 9000 زائد امیدار حصہ لے رہے ہیں۔
تاہم ان انتخابات کے دوران سنی اکثریتی آبادی بالے صوبے انبار میں ووٹنگ نہیں ہو گی کیونکہ وہاں سکیورٹی فورسز اب بھی شدت پسندوں اور قبائلی عسکریت پسندوں سے جنگ میں مصروف ہیں۔
عسکریت پسند صوبائی دارالحکومت رمادی اور فالوجہ شہر پر قابض ہیں اور سکیورٹی فورسز اس کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…