وزارت دفاع کی ترجمان ناریتہ فرحان نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے پیمرا آرڈیننس 2002 سیکشن 32 اور 36 کے تحت پیمرا حکام کو درخواست دی گئی ہے کہ جیو کی ادارتی ٹیم اور انتظامیہ کے خلاف مقدمے کا آغاز کریں۔ وزارت دفاع کا موقف ہے کہ ریاست کے ایک ادارے کے خلاف توہین آمیز مواد چلایا گیا ہے جو کہ نہیں چلایا جانا چاہیے تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وزارت دفاع نے پیمرا حکام کو بھجوائی گئی درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ جیو کے خلاف ثبوت اور حقائق کو دیکھنے کے بعد فوری طور پر جیو نیوز کا لائیسنس منسوخ کیا جائے۔ قبل ازیں پاکستان میں وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جیو ٹی وی کے سینیئر اینکر پرسن حامد میر پر حملے کو جواز بنا کر بغیر ثبوت کے پاکستان کے قومی اداروں پر حملے کیے جانا اور انھیں مورد الزام ٹھرانا تشویشناک ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزارات داخلہ کی جانب سے حامد میر پر حملے کے تناظر میں جاری ہونے والے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جس طرح سے اہم دفاعی اداروں کو تنقید اور الزامات کا نشانہ بنایا گیا اس کی مثال دنیا کے کسی ملک میں نھیں ملتی۔
اردو ٹائمز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید