شامی انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں اسد انتظامیہ نے 3 سالوں میں شعبہ صحت کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں 166 ڈاکٹروں ، 105 ابتدائی طبّی امداد کے عملے کے افراد اور 56 فارماسوٹیکل کے عملے سمیت کل 327 افراد کو ہلاک کر دیاہے۔ہلاک کئے جانے والے افراد میں 12 عورتیں اور 7 غیر ملکی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شامی انتظامیہ سے منسلک فورسز نے 650 ڈاکٹروں سمیت 3 ہزار 270 شعبہ صحت کے اہلکاروں کو حراست میں لیا ہے جن میں سے کچھ کو رہا کر دیا گیا تاہم زیر حراست افراد کا ایک بڑا حصہ ابھی تک قید میں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شعبہ صحت کے اہلکاروں کو “القائدہ کے اہلکاروں کا اعلاج کرنے” کی وجہ سے دیگر زیر حراست افراد سے زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیاہے اور ان میں سے 31 افراد تشدد کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ عراق شام اسلامی حکومت تنظیم نے بھی شعبہ صحت کے اہلکاروں اور بٰض موبائل ہسپتالوں پر حملے کئے ہیں اور بعض زخمیوں کو اغوا کر لیا ہے۔
ٹی آر ٹی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…