Categories: پاکستان

جنگ بندی کےخاتمے کے بعد فوجی قافلے پر پہلا حملہ

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے سرحدی علاقے میں فوج کے ایک قافلے پر شدت پسندوں کی طرف سے فائرنگ کی گئی ہے جس میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے حکومت کے ساتھ 40 روز قبل ہونے والی جنگ بندی میں مزید توسیع نہ کرنے کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز پر یہ پہلہ حملہ ہے۔
پشاور میں ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعے کو پشاور اور نیم قبائلی علاقے ایف آر پشاور کے سرحدی علاقے میں پیش آیا۔
انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ معمول کی گشت پر فرنٹیئر روڈ کی طرف جا رہا تھا کہ اس دوران عزیز مارکیٹ میں واقع ایک عمارت سے ان پر شدت پسندوں نے خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ حملے میں کم سے کم ایک فوجی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو سی ایم ایچ پشاور منتقل کردیا گیا ہے، تاہم پولیس ذرائع نے مرنے والے اہلکاروں کی تعداد دو بتائی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے فوجی قافلے کو راکٹ لانچروں سے نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی جوابی کارروائی کی گئی تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں ۔
بدھ کو تنظیم کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا تھا کہ تنظیم کی شوریٰ نے متفقہ طور پر جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھا جائے گا۔
ادھر دوسری طرف قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے قلعے میں اسلحہ کے ذخیرے میں آگ لگنے سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلحہ کے ڈپو میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہے جس سے قلعے کی عمارت کو نقصان پہنچا، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
تاہم مقامی ذرائع کے مطابق اسلحہ کے ذخیرے میں آگ اس وقت لگی جب شدت پسندوں کی طرف سے رات کی تاریکی میں قلعے پر مارٹر اور راکٹ لانچروں سے حملہ کیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رات گئے تک قلعے کے اندر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایک شدت پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago