Categories: پاکستان

عام لوگوں کی ہلاکتوں کی مذمت کرتا ہوں: حیربیار مری

بلوچ قوم پرست رہنما حیربیار مری نے کہا ہے کہ وہ عام لوگوں کی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں چاہے وہ فوج کرے یا بلوچ علیحدگی پسند۔

بی بی سی اردو کے ٹی وی پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے حیربیار مری نے کہا کہ بلوچستان میں جنگ ہو رہی ہے اور اس میں ’کولیٹرل‘ نقصانات تو ہوتے ہیں۔
سبی میں منگل کے روز جعفر ایکسپریس پر حملے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ عام پبلک پر کوئی بھی حملہ ہو وہ اس کے خلاف ہیں۔
قلات میں حالیہ آپریشن کے بارے میں حیربیار مری نے کہا کہ وہاں عورتوں اور بچوں کو زخمی کیا گیا اور مارا پیٹا گیا۔
سیکیورٹی فورسز کے اس بیان کے بارے میں کہ قلات میں کارروائی کے دوران صرف شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا حیربیار مری نے کہا کہ فوج غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔
بلوچستان کی صوبائی حکومت سے مذاکرات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت سے بات چیت کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔
حیربیار مری نے کہا کہ ’حتی کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے پاس بھی کوئی اختیار نہیں ہے اور وہ فوج کے سامنے بالکل بے بس ہیں۔‘
ایک مدت سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے حیربیار مری نے کہا کہ فوج کے سربراہ نے گزشتہ روز ہی ایک بیان دیا ہے جس سے پوری حکومت ہلی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔
صوبائی حکومت کی نمائندہ حیثیت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو صرف تین سے چار فیصد ووٹ پڑے تھے۔
انھوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت میں شامل لوگ اپنے مفاد کے لیے سیاسی دہارے میں شامل ہوئے ہیں۔
بلوچستان کی صوبائی حکومت کی طرف سے بات چیت کے لیے پیغامات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ انھیں مختلف ذریعوں سے پیغامات موصول ہوئے لیکن انھوں نے صوبائی حکومت کے کسی بھی نمائندے سے ملنے سے انکار کر دیا۔
اس سوال پر کہ کیا بلوچستان میں جاری علیحدگی پسند تحریک صرف چند نوابوں اور سرداروں تک محدود نہیں، حربیار مری نے کہا کہ بلوچستان سے پاکستان کی فوج اور سیکیورٹی فورسز کو نکال کر بین الاقوامی اداروں کی نگرانی میں انتخابات کرائیں تو بلوچ صرف اور صرف آزادی کے لیے ہی ووٹ ڈالیں گے۔
بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کی 26 اگست 2006 کو ہلاکت کے بعد سے علیحدگی پسند تحریک نے زور پکڑ لیا تھا اور بلوچ قوم پرستوں کی کئی مسلح تنظیمیں وجود میں آ گئی تھیں۔
حیربیار مری سنہ دو ہزار سے لندن میں مقیم ہیں۔
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جاری مسلح شورش کو غیر ملکی ذرائع سے اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago