عرب ویب سائٹ کے مطابق مراکش میں توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے سرکاری حکام نے بجلی کے استعمال کو مدنظر رکھنے کے لئے نئی پالیسی تیار کی ہے، جس کے تحت مساجد اور دیگر عوامی اداروں میں بجلی کا استعمال نصف سے بھی زیادہ کم کیا جائے گا، اس حوالے سے وزارت برائے مذہبی امور اور پانی و بجلی کے حکام کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پاگیا ہے جس کا باضابطہ اعلان انہوں نے ایک مشترکہ میڈیا بریفنگ میں کیا۔
معاہدے کے تحت عوامی اداروں میں بجلی کا استعمال 30 جبکہ مساجد میں یہ استعمال 40 فیصد پر لایا جائے گا۔ جس کے لئے مساجد میں زیادہ بجلی خرچ کرنے والے بلب ہٹا کر ان کی جگہ انرجی سیور ٹیوب لائٹس لگائی جائیں گی اور مساجد کو شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی فراہم کی جائے گی۔ حکومت کے مطابق شہروں اور دیہاتوں میں بجلی کے عام اور کمرشل استعمال کا مساجد سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
اس موقع پر مراکش کے وزیر برائے مذہبی امور احمد التوفیق کا کہنا تھا کہ اسلام ہمیں اسراف کی اجازت نہیں دیتا لیکن ہمیں یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ وسائل کے غیر ضروری استعمال میں مسلمان بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال ملک بھر میں قائم 15 ہزار مساجد ے بجلی کے واجبات کی مد میں 48 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی رقم ادا کر رہی ہے۔ اگر ہم مساجد میں توانائی کی بچت کریں گے تو اس سے دوسرے شعبوں میں بھی بچت کی راہ ہموار ہو گی۔
واضح رہے کہ مراکش میں گیس اور تیل جیسے قدرتی وسائل کی عدم موجودگی کے باعث توانائی کی ضرورت دوسرے ممالک سے حاصل کردہ گیس اور تیل کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار