Categories: افغانستان

افغانستان میں صدارتی انتخابات آج ہو رہے ہیں

افغانستان میں طالبان کی جانب سے تشدد کے واقعات اور دھمکیوں کی فضا میں لاکھوں افغان باشندے آج صدارتی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

تقریباً ایک کروڑ پندرہ لاکھ افغان ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر احمد یوسف نورستانی نے ووٹ ڈال کر پولنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔
پولنگ سہہ پہر چار بجے تک جاری رہے گے۔ ملک بھر میں تقریباً چھ ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔
ادھر طالبان کی جانب سے انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی دھمکی کو ناکام بنانے کے لیے افغانستان میں ایک بڑا سکیورٹی آپرشن جاری ہے۔
شمالی افغانستان سے بی بی سی کی کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ پولنگ سٹیشنوں کے باہر طویل قطاریں بننا شروع ہو گئی ہیں اور ووٹنگ کے عمل میں تیزی آنا شروع ہو رہی ہے۔
تاہم مغربی صوبے ہیرات اور کابل سے شمال مشرق میں واقع صوبے کپسا میں موسمی حالات اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کچھ پولنگ سٹیشنوں کو بند کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ سٹیشنوں پر بیلٹ پیپر وقت پر نہ پہنچنے کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں۔
آج صبح ٹی وی پر براہِ راست نشریات میں اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے الیکشن کمیشن کے چیئرمین احمد یوسف نورستانی نے تمام افغانوں کو ووٹ ڈالنے کی تائید کی۔
کابل میں حفاظتی تدبیر کے طور پر جمعے کی دوپہر سے ٹریفک کو داخل ہونے نہیں دیا جا رہا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مبصرین کی ان انتخابات کے بارے میں توقعات میں بہتری آ رہی ہے۔
افغان صدارتی انتخابات میں آٹھ امیدوار حصہ لے رہے جن میں اشرف غنی احمد زئی، زلمے رسول اور عبداللہ عبداللہ کو اہم امیدوار قرار دیا جا رہا ہے جب کہ دیگر امیدواروں میں محمد داؤد سلطان زئی، قطب الدین جلال، گل آغا شیرزئی اور ہدایت امین ارسلہ شامل ہیں۔
افغانستان میں سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقعے پر طالبان کی طرف سے حملے روکنے کے لیے دو لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
نئے منتخب ہونے والے صدر حامد کرزئی کی جگہ لیں گے جو سنہ 2001 میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اقتدار میں ہیں تاہم وہ افغان آئین کے تحت مسلسل تیسری بار صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتے۔
لیکن مبصر کہتے ہیں کہ آگے مشکلات بھی ہیں اور افغانستان سے نیٹو کے انخلا کے تناظر میں طالبان کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اتنظامات کیے گئے ہیں اور طالبان کے حملے روکنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ طالبان نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ایک بہت بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے حالیہ انتخابات کو سکیورٹی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نامہ نگار کے مطابق ہر پولنگ سینٹر کے اردگرد سکیورٹی کے حصار بنائے گئے ہیں جس کے پہلے دائرے میں پولیس اور باہر کی طرف سینکڑوں فوجی تعینات ہیں۔
حکام کے مطابق رائے دہندگان کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پولنگ سٹیشنوں پر پولیس اہل کار تعینات کیے گئے ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق بین الاقوامی مبصرین کو امید ہے کہ سخت حفاظتی انتظامات اور دھوکہ دہی کے خلاف نئی ضمانت کے بعد حالیہ انتخابات گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں شفاف ہوں گے۔
صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔
ان صدارتی انتخابات میں آٹھ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں دو سابق وزرائے خارجہ زلمے رسول، عبداللہ عبداللہ، اور سابق وزیرِ خزانہ اشرف غنی بھی شامل ہیں۔
انتخاب سے پہلے تشدد کے واقعات جاری ہیں اور جمعے کو ایک شخص نے فائرنگ کر کے ایک غیرملکی خاتون صحافی کو ہلاک اور دوسری کو شدید زخمی کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور پولیس کی یونیفارم میں ملبوس تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹر نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس حملے میں اینجا نیدرنگہس ہلاک جب کہ کیتھی گینن شدید زخمی ہوگئیں۔ دونوں صحافی خواتین ایسوسی ایٹیڈ پریس نیوز ایجنسی کے لیے کام کر رہی تھیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک بھر میں انتخابات کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago