Categories: پاکستان

خضدار: اجتماعی قبر سے ملنے والی لاشوں کی تعداد 17 ہو گئی

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے توتک میں اجتماعی قبر سے بر آمد ہونے والی لاشوں کی مجموعی تعداد 17 ہوگئی ہے جب کہ حکومت نے اس سلسلے میں قائم عدالتی ٹریبونل کی مدت میں آٹھ ہفتوں کی توسیع کی ہے۔

خیال رہے کہ اس علاقے میں پہلی مرتبہ 24 جنوری کو اجتماعی قبر کی دریافت اور اس سے 13 لاشوں کی بر آمدگی کے بعد صوبائی حکومت نے اس کی تحقیقات کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد نور مسکانزئی پر مشتمل ٹریبونل قائم کیا تھا۔
اس ٹریبونل کو ایک ماہ کے دوران صوبائی حکومت کو رپورٹ پیش کرنی تھی تاہم یہ ٹریبونل مقررہ وقت میں حکومت کو اپنی رپورٹ پیش نہیں کرسکا جس کے بعد اب کی مدت میں مزید توسیع کی گئی ہے۔
بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اسدگیلانی کا کہنا ہے کہ یہ توسیع ٹریبونل کی درخواست پر کی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹریبونل نے کام زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ درخواست کی تھیْ۔
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے توتک میں 30 اور 31 مارچ کو اجتماعی قبروں سے مزید چار لاشیں نکالی گئی تھیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ لاشیں ناقابلِ شناخت اور چھ ماہ پرانی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تین لا شیں صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گئی ہیں جبکہ ایک لاش پر کچھ گوشت باقی ہے۔
چار مزید لاشوں کی برآمدگی کے بعد سرکاری سطح پر اب تک وہاں سے 17 لاشوں کی بر آمدگی کی تصدیق ہوئی ہے تاہم قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہاں 100 سے 150 افراد کی لاشیں موجود ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا ایک وفد توتک کا دورہ کرنا چاہتا تھا لیکن کمیشن کی بلوچستان شاخ کے سربراہ طاہر حسین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ انھیں تاحال اس کی اجازت نہیں دی گئی۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ توتک میں17 لاشوں کی بر آمدگی کی آزادانہ تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اسد گیلانی نے رکاوٹیں ڈالنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب ایسا کرنا ممکن نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وہ ماحول نہیں رہا اور کسی کی کیا مجال کہ وہ ہائی کورٹ کے جج کے سامنے رکاوٹ ڈالے۔
یاد رہے کہ توتک سے اب تک ملنے والی لاشوں میں سے صرف دو کی شناخت ہوئی ہے ۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

19 minutes ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago