خیال رہے کہ اس علاقے میں پہلی مرتبہ 24 جنوری کو اجتماعی قبر کی دریافت اور اس سے 13 لاشوں کی بر آمدگی کے بعد صوبائی حکومت نے اس کی تحقیقات کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد نور مسکانزئی پر مشتمل ٹریبونل قائم کیا تھا۔
اس ٹریبونل کو ایک ماہ کے دوران صوبائی حکومت کو رپورٹ پیش کرنی تھی تاہم یہ ٹریبونل مقررہ وقت میں حکومت کو اپنی رپورٹ پیش نہیں کرسکا جس کے بعد اب کی مدت میں مزید توسیع کی گئی ہے۔
بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اسدگیلانی کا کہنا ہے کہ یہ توسیع ٹریبونل کی درخواست پر کی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹریبونل نے کام زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ درخواست کی تھیْ۔
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے توتک میں 30 اور 31 مارچ کو اجتماعی قبروں سے مزید چار لاشیں نکالی گئی تھیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ لاشیں ناقابلِ شناخت اور چھ ماہ پرانی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تین لا شیں صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گئی ہیں جبکہ ایک لاش پر کچھ گوشت باقی ہے۔
چار مزید لاشوں کی برآمدگی کے بعد سرکاری سطح پر اب تک وہاں سے 17 لاشوں کی بر آمدگی کی تصدیق ہوئی ہے تاہم قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہاں 100 سے 150 افراد کی لاشیں موجود ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا ایک وفد توتک کا دورہ کرنا چاہتا تھا لیکن کمیشن کی بلوچستان شاخ کے سربراہ طاہر حسین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ انھیں تاحال اس کی اجازت نہیں دی گئی۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ توتک میں17 لاشوں کی بر آمدگی کی آزادانہ تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اسد گیلانی نے رکاوٹیں ڈالنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب ایسا کرنا ممکن نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وہ ماحول نہیں رہا اور کسی کی کیا مجال کہ وہ ہائی کورٹ کے جج کے سامنے رکاوٹ ڈالے۔
یاد رہے کہ توتک سے اب تک ملنے والی لاشوں میں سے صرف دو کی شناخت ہوئی ہے ۔
بی بی سی اردو
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید