خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے اٹھائیس مارچ دوہزار چودہ کے خطبے کا آغاز قرآنی آیات: «إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ*الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ*أُوْلَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ» (ایمان والے وہی ہیں جب الله کا نام آئے تو ان کے دل ڈر جائیں اورجب اس کی آیتیں ان پر پڑھی جائیں تو ان کا ایمان زیادہ ہو جاتا ہے اور اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں (۲) وہ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں (۳) یہی سچے ایمان والے ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے درجے ہیں اور بخشش ہے اور عزت کا رزق ہے)؛ ]انفال: 2-4[ کی تلاوت سے کیا۔
تلاوت کی گئی آیات مبارکہ کی تشریح کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: ایمان سے بڑھ کر کوئی دولت اور سرمایہ نہیں ہے۔ ایمان کا مطلب ہے اللہ تعالی کی وحدانیت و یگانگی کا عقیدہ رکھنا، خاتم الانبیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور روزِقیامت پر ایمان لانا۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے نبی کی تمام باتوں پر ایمان لائیں اور ان کی سنت کو مان لیں۔ حقیقی مومن ہرگز اپنے ایمان کے مسئلے پر سمجھوتہ نہیں کرتا اور ہرحال میں اپنے سب سے اہم سرمایے کی حفاظت کرتاہے۔
بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا: سب سے بڑی عبادت ’قلبی عبادت‘ ہے؛ دل ایمان کی جگہ ہے۔ مومن کا ایمان اتنا قوی ہونا چاہیے کہ انسان کو اللہ تعالی سے متصل کرے اور اسے ہر قسم کے گناہوں اور معاصی سے دور رکھے۔ یہ ایمان ہی کی طاقت ہے جو مسلمانوں کو نماز پڑھنے پر مجبور کردیتی ہے؛ مومن کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی نے اسے نماز قائم رکھنے کا حکم دیا ہے۔ جب آپ نمازیں قضا کرنے لگیں یا سستی آئے، تو سمجھ لیں کہ یہ ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔
مولانا نے مزیدکہا: ہمیں اپنا ایمان قوی و مستحکم رکھنا چاہیے۔ صاحب ایمان امانتداری کا مظاہرہ کرتاہے اور اپنے عہد ومیثاق پر قائم رہتاہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ جو شخص امانت میں خیانت کرے اس کا ایمان نہیں اور جو وعدہ خلافی کرتاہے اس کا دین نہیں ہے۔ اللہ کا دین ہمارے پاس امانت ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
مومنوں کی صفات میں سے ایک اور اہم صفت کی نشاندہی کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا: سچے مومن ہرگز دنیا کے دلدادہ اور فریفتہ نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنے رب کے عاشق ہوجاتے ہیں۔ حقیقی مومن جب اپنے رب سے جا ملتے ہیں اور ان کی روح جسم سے نکل جاتی ہے، فرشتے انہیں جنت کی بشارت سناتے ہیں جس سے ان کا چہرہ کہل جاتاہے۔ لیکن جو لوگ دنیا کے فریفتہ و عاشق ہیں اور اللہ سے دور، ان کی روح نکلتے وقت انہیں بہت دشواری وسختی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے ’دین میں استقامت‘ کو مومنوں کی دیگر صفات میں شمار کرتے ہوئے کہا: سچے اور حقیقی مومن اللہ کے دین کی خاطر ہر قسم کی سختی برداشت کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور دین کی خاطر اپنی جان دینے کے لیے بھی آمادہ ہیں۔ مولانا احمد رحمہ اللہ (دارالعلوم زاہدان کے مرحوم استاذ) کی اچھائیوں میں اسے ایک یہی تھی کہ وہ ضمیرفروش نہیں تھے اور دنیا کی خاطر اپنا دین سودا نہیں کرتے تھے۔ آپ ہرگز باطل کے سامنے خاموش نہیں رہتے اور ذاتی مفادات کی خاطر حق سے دور نہیں ہوتے تھے۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے اس حصے کے آخر میں اولاد کی صحیح دینی واخلاقی تربیت پر زورد یتے ہوئے کہا: والدین کو جان لینا چاہیے کہ ان کا اہم ترین سرمایہ ان کا ایمان اور نیک وصالح اولاد ہیں۔ اولاد کی روزی کے بارے میں زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں؛ جو رب آپ کو روزی دیتاہے وہی ذات آپ کے بچوں کے رازق بھی ہے۔ والدین زیادہ سے زیادہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت اور اخلاق کی کوشش کریں۔
ایرانی اہل سنت کی آبادی بڑھنے پر پریشان نہیں ہونا چاہیے
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں بعض شیعہ مراجع اور بااثر علما کی بے جا تشویش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: گزشتہ کچھ عرصے سے ایرانی اہل سنت کی ’بڑھتی آبادی‘ پر کچھ حلقے تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور بعض بااثر شیعہ علما ایسے الفاظ زبان پر لاتے ہیں جن سے صدمہ ہوتاہے اور دشمن بھی غلط فائدہ اٹھاتاہے۔
انہوں نے کہا: حال ہی میں بعض شیعہ علماءنے ایرانی اہل سنت کی آبادی بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیاہے؛ اگر کوئی عام آدمی ایسی بات کرتا تو اس کی نادانی پر محمول ہوتی، لیکن جب اہل علم ایسے خیالات کا اظہار کرتے ہیں تو شکوہ کا مقام ہوگا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: پہلی بات یہ ہے کہ ایسی رپورٹس اگر درست بھی ہوں تو کسی کو پریشان نہیں ہونا چاہیے؛ شیعہ وسنی دونوں ایرانی قوم کے حصے ہیں اور ایران ان کی سرزمین ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان بیانات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور ان سب باتوں کی بنیاد غلط اور جھوٹی رپورٹس ہیں جو بااثر شیعہ علما ومراجع تک پہنچائی جاتی ہیں۔مثلا کسی حکومتی عالم دین نے دعوی کیا ہے کہ ایک صوبے میں اہل سنت کی آبادی اکثریت اختیار کرچکی ہے حالانکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ لیکن تحقیقات کے مطابق پہلے ہی سے اس صوبے میں اہل سنت کی آبادی اکثریت میں تھی اور اس پر پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ہمیں معلوم ہے بعض علماءشیعہ برادری کو آبادی بڑھانے پر اکسانا چاہتے ہیں تاکہ شیعہ برادری میں شرح پیدائش بڑھ جائے؛ لیکن یہ طریقہ بالکل نامناسب اور غلط ہے جو شیعہ وسنی علما کی شان کے خلاف ہے۔ اگر کسی مسلم برادری کی آبادی بڑھ جائے ہمیں اس پر خوشی ہوگی اور ہم اپنے بھائیوں کی تعداد بڑھنے پر مضطرب نہیں ہوتے ہیں۔ بہرصورت حقیقت یہ ہے کہ شیعہ وسنی برادریوں میں شرح پیدائش برابر ہے اور ایک ہی نسبت سے ملک کی آبادی بڑھتی جارہی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے ایران میں اونچی سطح پر جھوٹ اور دروغ گوئی کے عام ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: کچھ عرصہ قبل ایک اعلی حکومتی عہدیدار نے دعوی کیا تھا ایران میں ہر سنی مسجد میں ایک سو طالب علم زیرتعلیم ہیں۔ حالانکہ یہ دعوی جڑ سے غلط ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ اہل سنت کی مساجد نماز قائم کرنے کے لیے ہیں طلبہ کی قیام گاہ نہیں! طلبہ مدارس میں رہائش اور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ نیز اگر کسی مسلم برادری میں دیندار اور نمازی لوگوں کی تعداد بڑھ جائے تو یہ تشویش کی نہیں فخر کی بات ہوگی اور شیعہ وسنی دونوں کو خوش ہونا چاہیے کہ دیندار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے۔
آئین کے مکمل نفاذ سے حکومت کی بقا ممکن ہے
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں ایران میں یوم اسلامی جمہوریہ (یکم اپریل) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یکم اپریل انیس سو اسی کو ایرانی قوم نے رفرنڈم میں شرکت کرکے ’اسلامی جمہوریہ‘ کے حق میں ’ہاں‘ کا ووٹ ڈالا۔ اس انتخابات میں شرکت کا مقصد یہی تھا کہ عوام خود اپنے مسائل میں حصہ لیں اور حکام کا انتخاب وتقرری ان کے ووٹوں سے ہو۔
انہوں نے کہا: ایرانی قوم کے نزدیک مادرپدرآزاد جمہوریت قابل قبول نہیں بلکہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کو چن کر قوم نے ثابت کردیا اسلام اور اسلامی اصول وقوانین اس کے لیے اہم ہیں۔ اس کے بعد ماہرین کے بورڈ منتخب ہوگیا تا کہ اسلام کی بنیاد پر آئین کا مسودہ تیار کرے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: آئین کسی بھی ملک کے لیے بہت ہی اہم ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اہم آئین کا درست نفاذ ہے۔ اگر ایران میں آئین درست اور مکمل طور پر نافذ ہوجائے تو ’اسلامی جمہوریہ‘ کی بقا کی ضمانت ہوسکتی ہے۔
ایرانی آئین میں بعض شقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: آئین کی رو سے تمام سیاسی ومذہبی گروہوں اور جماعتوں کو مکمل آزادی حاصل ہے، آئین میں آزادی اظہار رائے پر زور دیاگیاہے اور کوئی بھی حکومتی یا غیرحکومتی ادارہ یا فرد ایسی آزادیوں پر قدغن نہیں لگاسکتاہے۔ نئی حکومت اور دیگر حکام کی ترجیحات میں آئین کا مکمل اور درست نفاذ شامل ہونا چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ایران میں آبادی کی رنگارنگی اور لسانی ومسلکی تنوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: ملک میں متعدد قومیتوں اور مسالک ومذاہب کے پیروکار آباد ہیں اور آئین میں ان سب کے حقوق پر زور دیاگیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف اکائیوں کے حقوق پر کوئی قدغن نہ لگایاجائے اور بلاوجہ انہیں ہراساں کرنے اور رکاوٹیں ڈالنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ حکومتی اور غیرحکومتی ادارے سب کے حقوق کا احترام کریں۔ اسی صورت میں حکومت کی بقا ممکن ہوسکتی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…