شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے چودہ مارچ دوہزار چودہ کے خطبے کا آغاز قرآنی آیت: “مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ “(محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔)کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اپنے پیارے نبی کے صحابہ و دوستوں سے رضامندی کا اعلان فرمایا۔ اللہ کے سوا اگر کوئی کسی شخص سے رضامندی کا اعلان کرے تو پھر کسی وقت ناراض بھی ہوسکتاہے، چونکہ اسے معلوم نہیں مستقبل میں وہ دوست ہی باقی رہے گا یا خیانت کرے گا۔ لیکن اللہ تعالی علام الغیوب ہے اور سب کے حال اور مستقبل سے آگاہ ہے؛ جب وہ کسی سے رضامندی کا اعلان فرماتاہے تو اس کا مطلب کچھ اور ہوتاہے۔ اللہ تعالی کو اچھی طرح اس بات کا علم تھا کہ صحابہ کرام آخری سانس تک فرمانبردار اور مطیع رہیں گے۔
واقعہ صلح حدیبیہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں نے عمرے کی نیت سے احرام باندھا اور مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوگئے، مشرکین مکہ نے انہیں روک دیا۔ آپﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مذاکرات کے لیے مکہ بھیجا تاکہ اہل مکہ کو اطلاع دیدے مسلمان صرف عمرے کے لیے آئے ہیں لڑائی کے لیے نہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: جب مکہ کے مشرکین نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ پھیلائی، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے عثمان بن عفان کے خون کا بدلہ لینے پر بیعت لی اور سب نے بیعت بھی کی۔ کسی نے عرض کیا، اگر عثمان یہاں ہوتے تو ضرور بیعت کرلیتے، چنانچہ آپﷺ نے ان کی جانب سے بیعت کے لیے اپنے دونوں ہاتھ ملائے۔
مولانا عبدالحمید نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اللہ تعالی کو یہ بیعت پسند آئی اور صحابہ کرام کی بیعت پر اپنی رضامندی کا اعلان قرآن پاک میں فرمایا؛ ارشاد الہی ہے: “لَّقَدْ رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا”، (اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا۔ اور جو (صدق وخلوص) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی)
صلح کے معاہدہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے لکھا۔ کفارمکہ کے نمائندہ سہیل بن عمرو نے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کے ساتھ ’رسول اللہ‘ لکھنے پر اعتراض کیا، آپﷺ نے حکم دیا ’رسول اللہ‘ کا لفظ مٹایاجائے؛ یہ کام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے بہت دشوار تھا اور انہوں نے انکارکیا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے خودہی یہ لفظ مٹایا۔کفار کے لیے ’رسول اللہ‘ کا لفظ ناقابل برداشت ہوا، مگر اللہ تعالی نے اپنے حبیب کے نام کے ساتھ یہ لفظ ہمیشہ کے لیے ثبت فرمایا اور مسلمان ہمیشہ کے لیے اس کی تلاوت کرتے رہیں گے: “مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ”
حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے کہا: اگر صحابہ کرام کو پہچاننے کی خواہش ہے تو اس کیلیے قرآن وسنت ہی معیار ہیں۔ ہمارا ایمان قرآن وسنت ہی پر ہے، جو ان کے خلاف دعوی کرے ہم ہرگز اس کی بات نہیں مانیں گے۔ دراصل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دوستی ومحبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بعض فضائل پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی چار صاحبزادیوں سے سب سے زیادہ حضرت فاطمہ سے محبت تھی۔علی وفاطمہ سے محبت خاص قسم کی تھی۔حضرات علی، فاطمہ اور ان کے بیٹے حسن وحسین بیک وقت صحابہ اور اہل بیت دونوں میں شامل تھے۔ یہ اکابر ہم تمام مسلمانوں کے لیے باعث فخر ہیں اور ان کا تعلق کسی خاص مکتبہ فکر سے نہیں بلکہ پوری امت سے ہے۔
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے بیان کے ایک حصے میں تمام مسلمانوں کو اپنے اتحاد ویکجہتی برقرار رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ہرحال میں مسلم مسالک اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور دشمنوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم نہ کریں۔ ذرائع ابلاغ کے ذمہ داران بھی اپنے جذبات پر قابو پالیں اور تمام مسالک کی مقدس شخصیات کا احترام کریں۔
یوکرین میں بحران نے بڑی طاقتوں کو دست وگریبان کیا
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے آخری حصے میں یوکرین اور کرائمیاکے سیاسی بحران پر عالمی طاقتوں کے شدید اختلافات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: سکیورٹی کونسل اور اقوام متحدہ سمیت اکثر عالمی تنظیمیں دنیا کی بڑی طاقتوں کے قبضے میں ہیں، وہ آسانی سے مسلم ممالک کے مسائل حل کرسکتی تھیں لیکن انہوں نے ہرگز مسلمانوں پر رحم نہیں کیا؛ اب اللہ تعالی نے یوکرین اور نیم خودمختار علاقہ ’کرائمیا‘ کے موضوع پر انہیں دست وگریبان کیاہے۔ البتی ہم کسی بھی ملک اور قوم کے لیے کشت وخون نہیں چاہتے اور پوری دنیا میں امن اور صلح کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہمارے خیال میں سب کو مذاکرات اور گفت وشنید کے ذریعے اپنے مسائل حل کرانا چاہیے۔
کرائمیا میں رفرنڈم کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا: کرائمیا کی علیحدگی کے لیے رفرنڈم کا انعقاد ’مضحکہ خیز‘ اور ’منطق کے خلاف‘ ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے تاکیدکرتے ہوئے کہا: کرائمیا یوکرین کا حصہ ہے اور وہاں رفرنڈم کا انعقاد ایسا ہے جیسا کہ کوئی فرد کسی شادی شدہ خاتون سے کہے، جس کا شوہر اور بچے بھی ہیں،کہ تم بتاو میں تیرا خاوند ہوں یا یہ شخص؟! کرائمیا بھی یوکرین کا حصہ ہے اور وہاں مضحکہ خیز اقدامات سے کسی ملک کو دو ٹکڑے نہیں کیاجاسکتا۔ اس بحران کا واحد حل مذاکرات، قانون اور عالمی معاہدے ہیں جن کی روشنی میں تمام عناصر اور ملک کسی متفقہ فیصلہ پر پہنچ سکتے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…