جمعہ کے روز بھی سیکڑوں یہودیوں نے حضرت یوسف کے مزارمیں داخل ہو کر تلمودی تعلیمات کےمطابق مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس موقع پر مزار کے آس پاس کی کالونیوں میں صہیونی فوج اور پولیس نے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے تھے۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ جمعہ کو علی الصباح سیکڑوں یہودی شرپسند بسوں کے ذریعے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پر پہنچے جہاں ان کے ساتھ صہیونی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔
صہیونی فوجیوں نے مزار شریف کی طرف آنے والے تمام راستوں کی مکمل ناکہ بندی کر کے فلسطینیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی تھی۔ کئی گھنٹے کی طویل ناکہ بندی کے بعد یہودی آبادکاروں کی واپسی شروع ہوئی۔ مقامی فلسطینی نوجوانوں نے یہودی آباد کاروں پر پتھراؤ بھی کیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار