وزیراعظم میاں نواز شریف نے یہ بات آج جمعرات کی صبح دونوں کمیٹیوں کے ارکان کے ساتھ مشترکہ ملاقات کے موقع پر کہی ہے۔
اس موقع پر مذاکرات میں پیش آنے والی مشکلات، دہشت گردی کے پے در پے واقعات اور مذاکرات سے ناخوش ملکی اور غیر ملکی قوتوں کا بھی ذکر ہوا۔ اس تناظر میں مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلیے مقتدر حلقوں کے تعاون کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے دونوں کمیٹیوں کے ارکان کی بڑی تعداد مذاکراتی عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے کیلیے مقتدر حلقوں کی انوالومنٹ پر زور دیتی ہے۔ جیسا کہ کمیٹیوں کی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ ” مقتدر حلقوں کے تعاون کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔”
البتہ بعض اپوزیشن جماعتیں خصوصاً پیپلز پارٹی فوج کو اس کے باوجود مذاکراتی عمل میں شامل کیے جانے کی مخالف ہے کہ ماضی میں طالبان کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدوں میں فوج بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر شامل رہی ہے۔
کمیٹیوں کی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مولانا سمیع الحق نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے آپریشن سے حتی المقدور بچنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مولانا سمیع الحق کے بقول میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ کوشش کی جائے کہ آپریشن کی نوبت نہ آئے۔
طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے کمیٹی کی ملاقات میں مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے والوں کی نشاندہی کرنے پر زور دیا ہے۔ نیز یہ بھی کہا ہے طالبان اور حکومت مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن بنائیں۔ خیال رہے مولانا سمیع الحق اس سے قبل کھلے لفظوں میں امریکا اور بھارت کو مذاکرات ناکام کرنے کی کوششوں کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں۔
وزیر اعظم سے کمیٹیوں کی ملاقات کے دوران مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران کمیٹیوں میں متعلقہ شخصیات کی شمولیت کی بھی بات ہوئی اور وزیرستان میں طالبان شوری سے ملاقات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
مولانا سمیع الحق نے کہا ” مذاکرات کو آگے بڑھانے پر سب لوگ متفق ہیں۔ اس مقصد کیلیے حکومت اور طالبان کے رابطے ہو گئے ہیں اور اب فیصلوں کا وقت قریب ہے۔ آپریشن روکنے کیلیے وزیر اعظم پُرعزم ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…