ایران: مولانا عبدالحمید کو مکہ مکرمہ جانے سے روک دیاگیا

ایرانی اہل سنت کے سرکردہ عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے مکہ مکرمہ جانے والے تھے کہ انہیں روک دیاگیا۔

’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق رابطة العالم الاسلامی کی جانب سے مکہ مکرمہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہورہی ہے جس میں سرکردہ دینی وسماجی شخصیات ”عالم اسلام کے مسائل اور ان کاحل “ کے موضوع پر گفتگو کریں گی۔

مذکورہ کانفرنس آج دوئم مارچ سے شروع ہوکر تین دنوں کے اندر اختتام پذیرہوگی۔ ایران سے ورلڈ مسلم لیگ (رابطہ عالم اسلامی) کے مہمان خاص شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید تھے جنہیں کانفرنس کے آغاز سے چند گھنٹے قبل سعودی عرب جانے سے منع کیاگیا۔ مولانا عبدالحمید کے دفتر نے بیان جاری کرکے اس ممانعت کی وجہ ’کچھ مسائل‘ بیان کیا ہے۔

خطیب اہل سنت زاہدان کے دفتر کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے رابطة العالم الاسلامی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی کے نام خط لکھ کر انہیں اپنی غیرحاضری کے بارے میں آگاہ کیاہے۔

ممتازسنی عالم دین کے خط کے ایک حصے میں عالم اسلام اور مسلمانوں کے بحرانوں اور مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاہے: عصرحاضر میں مسلم امہ سخت ترین مسائل وبحرانوں سے دست وگریبان ہے۔انتشار و عدم اعتماد مسلم ممالک پر غالب ہوچکا ہے، لوگوں کے حقوق اور عزت پامال ہورہی ہے، دینی وقومیتی اقلیتوں کے اہم ترین مسائل ان کے جائز اور شہری حقوق ومطالبات کا انکارہے؛ بہت سارے مسلم ممالک میں دیگر مسالک کی دینی آزادیوں پر قدغنیں عائد ہیں۔

مولانا نے مزید لکھاہے: بعض ممالک میں حکام اپنی قوموں سے لڑائی میں مصروف ہیں؛ اختلافات اس قدر شدید ہیںکہ حکومتیں اپنی قوموں سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ مسلم حکام بھی آپس میں عدم اتفاق کا شکار ہیں، چنانچہ اس کا اثر پورے عالم اسلام پر پڑرہاہے اور وہ عالم اسلام کے موجودہ مسائل وبحرانوں کے حل کے لیے مذاکرات اور باہمی گفت وشنید کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ڈاکٹر الترکی کے نام خط میں مولانا عبدالحمید نے کہاہے: مغربی ممالک اور دیگر عالمی طاقتیں ہرگز مسلم ممالک میں امن وسکون اور آزادی کے خواہاں نہیں ہیں، انہیں صرف ان کے سیاسی ومعاشی مفادات عزیز ہیں۔ اسرائیل کی حفاظت مغرب کی اولین ترجیح ہے اور مشرق وسطی میں لڑائیوں کا بازار گرم کرکے مغربی طاقتیں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے اپنے خط کے ذریعے ’مسلم علما ودانشوروں‘ کے ایک مشترکہ بورڈ کی تشکیل کو عالم اسلام کے موجودہ مسائل کا واحد حل قرار دیتے ہوئے تجویز دی ہے: جیسا کہ ابھی تک مسلم قومیں اپنے علما کا احترام کرکے ان کی باتیں سنتی ہیں، موجودہ بحرانوں سے مسلمانوں کو نجات دلانے کے لیے ایک بورڈ بنانا چاہیے جس میں عالم اسلام کے چوٹی کے علما، داعیان دین اور مخلص دانشور حضرات شریک ہوں۔ یہ بورڈ مختلف مسلم حکومتوں، مسلکوں اور جماعتوں سے گفتگو کرکے ان کی بعض افکار کی اصلاح کی کوشش کرے گا اور یوں انہیں مذاکرات کے میز پر لانے کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید نے مذکورہ کانفرنس میں اپنی عدم مشارکت پر معافی مانگتے ہوئے امید ظاہر کی ہے عالم اسلام کے مسائل کے حل نکالنے میں یہ کانفرنس کامیاب ہوجائے۔

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago