حملے میں کم سے کم ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوا ہے۔ طالبان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے سات فوجیوں کو یرغمال بنایا ہے۔
افغانستان کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ فوجی لاپتہ ہیں لیکن وہ لاپتہ فوجیوں کی تعداد چھ بتا رہی ہے۔
حملے کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے سری لنکا کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
افغانستان میں اگلے ماہ کے صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ طالبان نے انتخابی مہم کو ناشنہ بنانے کی دھمکی دی رکھی ہے۔
کابل میں موجود بی بی سی كیرن ایلن نے بتایا کہ یہ حملہ گزشتہ ایک سال میں فوج پر طالبان کے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک ہے۔
جنرل محمد ظہیر عظیمي نے بتایا کے اتوار کی صبح ہونے والے حملے میں حملے میں سینکڑوں شدت پسند‘ شامل تھے۔ حملہ كنڑ صوبے کے ضلع غازی آباد میں کیا گیا۔ جس کے بعد کیی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
كنڑ کے گورنر شجاع الحق ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ فوج میں طالبان کے حامیوں نے اس حملے میں ان کی معاونت کی ہو۔
افغانستان میں کچھ عرصے سے طالبان کے حملوں میں تیزی آئی ہے اور یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جو رواں برس کے آخر تک غیر ملکی افواج ملک سے نکل جائیں گی۔
بی بی سی اردو
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید