غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی ثقافتی مرکز کے باہر ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے بعد فائرنگ بھی شروع ہوگئی اور کچھ ہی دیر بعد دوسرے حملہ آور نے بھی خود کو دھماکے سے اڑالیا، دھماکوں کے بعدعلاقے میں بھگڈر مچ گئی جب کہ اس دوران انسانی اعضا بھی ہرطرف بکھر گئے، وزارت صحت کے مطابق خود کش دھماکوں میں 5 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جب کہ زخمیوں میں سے بھی متعدد کی حالت تشویشناک ہے ۔
دوسری جانب القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ’’عبداللہ اعظم بریگیڈ‘‘ نامی تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے اگرا ایران کی حکومت نے فوری طورپرلبنان میں موجود اپنی فورسز کو واپس اورہمارے قیدیوں کو رہا نہ کیا تو آئندہ بھی اس طرح کے دھماکے کئے جائیں گے۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار