غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی ثقافتی مرکز کے باہر ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے بعد فائرنگ بھی شروع ہوگئی اور کچھ ہی دیر بعد دوسرے حملہ آور نے بھی خود کو دھماکے سے اڑالیا، دھماکوں کے بعدعلاقے میں بھگڈر مچ گئی جب کہ اس دوران انسانی اعضا بھی ہرطرف بکھر گئے، وزارت صحت کے مطابق خود کش دھماکوں میں 5 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جب کہ زخمیوں میں سے بھی متعدد کی حالت تشویشناک ہے ۔
دوسری جانب القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ’’عبداللہ اعظم بریگیڈ‘‘ نامی تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے اگرا ایران کی حکومت نے فوری طورپرلبنان میں موجود اپنی فورسز کو واپس اورہمارے قیدیوں کو رہا نہ کیا تو آئندہ بھی اس طرح کے دھماکے کئے جائیں گے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…