لیکن وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ اس بارے میں ہونے والی مشاورت میں شریک بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے بارے میں بھی ابھی تک کابینہ یا حکمران جماعت کے ساتھ کسی قسم کی مشاورت نہیں کی ۔
نواز کابینہ کے ایک رکن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا گزشتہ ماہ ایک بریفنگ میں وزیراعظم کے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ فوجی کاروائی کے ذریعے شمالی وزیرستان کو عسکریت پسندوں سے خالی کروانے کا متبادل “قابلِ اطلاق”ہے۔
تاہم وزیراعظم نواز شریف نے کابینہ، حکمران جماعت یا فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس موضوع پر مزید کوئی بات نہیں کی ۔
مسلم لیگ ن کے ایک اعلی سطحی سیاسی رہنما کا کہنا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی فی الحال کارروائیاں معطل نہیں ہوئی ہیں تا ہم مذاکرات کامتبادل مکمل طور پر تا حال ترک نہیں کیا گیا ہے۔
اس رہنما کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے معاملات ایک بار پھر اسی طریقے پر واپس چلے گئے ہیں جس طرح سے اس کمیٹی کے قیام سے قبل چل رہے تھے۔
29 جنوری کو اس کمیٹی کے قیام سے قبل طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کے سپرد تھی جو خفیہ طریقے سے مذاکرات کو آگے بڑھا رہے تھے۔
مسلم لیگی عہدیدار کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے پچھلے سال ہونے والے عام انتخابات سے قبل ہی عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں شروع کر دی تھیں اور “اس ایک سال کے دوران ابھی تک انہوں نے کسی پارٹی عہدیدار یا کابینہ کے ارکان کے ساتھ فوجی کارروائی شروع کرنے کے بارے میں مشاورت نہیں کی ہے۔”
ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال سے مطلب یہی اخذ کر سکتے ہیں کہ وزیراعظم کے ذہن میں صورتحال کو ٹھیک کرنے کے لیے فوجی آپریشن ابھی تک ایک آپشن کے طور پر موجود نہیں ہے۔
ٹی آر ٹی اردو
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…