اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل بان کی مون نے جمہوریہ وسطی افریقہ کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
بان نے کہا کہ اس ملک سے تمام تر مسلمان باشندے اپنے جانوں کو بچانے کی خاطر اپنے گھر بار کو ترک کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “مسلمانوں کے تحفظ اور قتل عام کا سد باب کرنے کی خاطر ہمیں ہر ممکنہ کوششیں صرف کرنی چاہییں” لہذا بروز منگل اس بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتیہ کونسل کو بعض تجاویز پیش کی جائینگی۔ “
بان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ” اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے مابین عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے تعاون” کے موضوع پر اپنے خطاب میں جمہوریہ وسطی افریقہ میں رونما ہونے والے واقعات کا ذکر کیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ “اجتماعی قتل عام کی کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کرنے کے بعد ہم اس ضمن میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے فرض سے کنارہ کشی اختیار نہیں کر سکتے۔” اور شہریوں کے تحفظ کو محض سیاسی، فوجی اور مالی طاقت کے استعمال کے ساتھ حاصل کیا جانا ممکن ہے۔
ٹی آر ٹی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…