Categories: پاکستان

’جو بھی طے ہوگا پورے پاکستان کے لیے نہیں، صرف شورش زدہ علاقوں تک محدود رہےگا‘

کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے امن مذاکرات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی نے اپنے نکات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان سے ہونے والے مذاکرات کا اطلاق صرف شورش زدہ علاقوں پر ہوگا۔

یہ بات حکومتی کمیٹی اور طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر جاری ہونے والی مشترکہ پریس ریلیز میں کہی گئی ہے۔
حکومتِ پاکستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور جمعرات کی سہ پہر اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں طالبان کی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں کمیٹیوں نے مثبت رویے کا مظاہرہ کیا اور اتفاق کیا کہ فریقین میں سے کوئی بھی امن مذاکرات کو نقصان پہنچانے والی کارروائی نہ کرے اور امن و سلامتی کے منافی تمام کارروائیوں کا سلسلہ بند کر دیا جائے۔

بیان کے مطابق حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں کہا گیا ہے کہ بات چیت مکمل طور پر آئینِ پاکستان کی حدود میں ہونی چاہیے اور امن مذاکرات زیادہ طویل نہیں ہونے چاہییں۔

حکومت نے طالبان سے یہ بھی کہا ہے کہ ان سے کیے جانے والے مذاکرات کا دائرہ شورش زدہ علاقوں تک محدود رہے گا اور یہ پورے پاکستان پر محیط نہیں ہوں گے۔

حکومتی کمیٹی نے طالبان سے نمائندہ کمیٹی کے علاوہ خود طالبان کی طرف سے بنائی جانے والی نو رکنی کمیٹی کے بارے میں بھی استفسار کیا اور پوچھا کہ کیا حکومتی کمیٹی کو اس سے بھی بات کرنا ہوگی۔ انہوں نے طالبان سے اس کمیٹی کا دائرہ کار واضح کرنے کو بھی کہا ہے۔

مشترکہ بیان میں طالبان کی کمیٹی کے تحفظات کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور حکومت سے اس کی کمیٹی کے مینڈیٹ اور دائرہ کار کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

طالبان کی نمائندہ کمیٹی نے وزیراعظم، آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وہ حکومتی کمیٹی کے مطالبات جلد طالبان تک پہنچائیں گے اور ان کے جواب سے حکومت کو آگاہ کیا جائے گا جس کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا۔

طالبان سے بات چیت کے لیے بنائی جانے والی حکومت کی کمیٹی میں وزیرِاعظم کے مشیر عرفان صدیقی کے علاوہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے کے سابق افسر میجر محمد عامر خان، سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی اور افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند شامل ہیں جبکہ طالبان کی نمائندہ کمیٹی جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جماعتِ اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم اور اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز پر مشتمل ہے۔

بی بی سی اردو

 

modiryat urdu

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

2 days ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

2 days ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

4 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

4 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago