ماضی میں امریکا کے کنٹرول میں رہنے والی بگرام جیل میں موجود قیدیوں کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی افغان حکومتی ٹیم کے رکن عبدالشکور دادرس نے غیرملکی خبرایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئےبتایا کہ 37 قیدیوں کے کاغذات کی جانچ پڑتال مکمل کرنے کے بعد ان کی رہائی کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں، ان قیدیوں کو ضروری کاغذی کارروائی اور سیکیورٹی عمل مکمل ہونے کے بعد رہا کردیاجائے گا اور اس کام میں زیادہ سے زیادہ 2 ہفتے لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر قیدیوں کے حوالے سے بھی تحقیقاتی ٹیم کا کام جاری ہے۔
دوسری جانب افغانستان میں موجود امریکی فوج کی جانب سے جاری بیان ميں قیدیوں کی رہائی کو افغانستان اور امریکا کی سیکیورٹی کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ جن قیدیوں کو افغان نظرثانی بورڈ کی جانب سے رہا کیا جا رہا ہے ان کے ہاتھ معصوم افغان شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ افغان حکومت نے 9 جنوری کو 72 ایسے قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا جن کے خلاف افغان تحقیقاتی ٹیم کو شواہد نہیں ملے یا ان کے خلاف شواہد ناکافی تھے۔ قیدیوں کی رہائی کے اعلان کے بعد افغان حکومت اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تناؤ بھی کافی حد تک بڑھ گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار