راولپنڈی چھاؤنی کے انتہائی حساس علاقے سے گزرنے والا آر اے بازار فوج کے ہیڈکوارٹر (GHQ) کے علاوہ اُس ہسپتال کے بھی قریب ہے، جہاں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف داخل ہیں۔ مشرف آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج ہیں۔ اس بم حملے میں ہلاک شدگان کی تعداد سردست نو بتائی گئی ہے جبکہ زخمی اٹھارہ ہیں۔ یہ حملہ اُس واقعے کے ایک دن بعد کیا گیا ہے، جس میں فوج کے کم از کم بیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ بنوں میں کیے گئے حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دھماکے کے مقام سے نعشوں اور زخمیوں کو مقامی ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ زیادہ تر زخمی سکیورٹی اداروں کا سویلین اسٹاف اور اسکولوں کے بچے بتائے گئے ہیں۔
آر اے بازار میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت انتہائی نازک ہے۔ دھماکے کے مقام کے ارد گرد کے سارے علاقے کو سکیورٹی اہلکاروں نے گھیرے میں لے کر مشتبہ افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔ مقامی پولیس کے افسر عمر سہیل کے مطابق اس حوالے سے بھی تفتیش کی جاری ہے کہ آیا یہ خودکش حملہ ہے۔ عمر سہیل کے مطابق ایسا امکان ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار خود کُش بمبار نے گزرتے ہوئے خود کو اڑا لیا تھا۔
پیر کے حملے کو فوجی تفتیش کار بھی ایک خود کش حملہ خیال کر رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک فوجی اہلکار کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ ایک خود کش حملہ محسوس ہوتا ہے۔ آر اے بازار کے قرب و جوار میں فوجی دفاتر موجود ہیں لیکن یہاں روزمرہ اشیاء کا بہت بڑا بازار بھی ہے۔ اس بازار کے ایک رہائشی اسد ملک نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکا اتنا زوردار تھا کہ گھروں اور دوسری عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایک اور رہائشی کے مطابق دھماکے کے بعد سارے علاقے میں افراتفری پھیل جانے سے خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے اس بم حملے کی مذمت کی ہے۔
ڈی ڈبلیو
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار