اس مقدس شہر سے تعلق رکھنے والے ایک استاد محمد عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ انھیں اس کنویں کے بارے میں قریباً پچاس برس قبل پتا چلا تھا۔تب یہ کنواں کھلا ہوتا تھا لیکن پندرہ سال قبل اس کو بند کردیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اس کنویں کے نزدیک ایک چھوٹا ریستوراں تھا اور یہاں زیادہ تر مراکشی اور افریقی زائرین آیا کرتے تھے۔وہ اس کا پانی پیتے اور غسل کیا کرتے تھے اوروہ اس کی مذہبی اہمیت کے پیش نظر ایسا کیا کرتے تھے۔
سعودی گزٹ اور روزنامہ الحیات میں اتوار کو شائع شدہ رپورٹس میں اس تاریخی کنویں کے بارے معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ضلع جروال کے ایک مکین عدنان الحازمی کا کہنا ہے کہ تویٰ کنویں کو وقتاً فوقتاً کوئی آدھے گھنٹے کے لیے کھولا جاتا ہے۔اگر اس کی جگہ کے نزدیک علامتی اشارے لگا دیے جائیں تو لوگ بآسانی اس تک پہنچ سکیں گے۔
اس کنویں کے نزدیک کام کرنے والے ایک تارک وطن عفت السید کا کہنا ہے کہ وہ اس کے بارے اس کے سوا کچھ نہیں جانتے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کے پانی سے وضو فرمایا کرتے تھے۔
ان کے بہ قول انھوں نے اس کنویں کے بارے میں اپنے مکہ کے دوستوں سے یہی بات سن رکھی ہے لیکن اگر اس مقدس کنویں کی جگہ کے بارے میں علامتی اشارے لگادیے جائیں اور اس کی مختصر تاریخی اہمیت لکھ کر آویزاں کردی جائے تو یہ اقدام بہت سے لوگوں کے لیے اس جگہ تک پہنچنے اور اس کی زیارت میں معاون ثابت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ سائن بورڈ بڑے ہونے چاہئیں اور ان میں اس جگہ کی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اہمیت بیان کی جانی چاہیے تاکہ یہاں آنے والے لوگوں کو اس کے بارے میں کما حقہ آگاہی ہوسکے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…