عالمی میڈیا کے مطابق پولیس اہلکاروں نے بلوائیوں سے مل کر مسلمان آبادی کی بچیوں سے زیادتی بھی کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق میانمار کے صوبے راکھین میں بودھ مت کے پیروکاروں نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے، انتہا پسند حملہ آوروں نے چاقوئوں اور دیگر ہتھیاروں سے مسلح ہو کر 17 خواتین اور 5 بچوں سمیت 60 مسلمانوں کو قتل کر دیا جبکہ کئی گھروں کو نذر آتش بھی کر دیا۔ بعدازاں مقامی رہائشیوں کے احتجاج کرنے پر پولیس اور فوج نے الٹا کریک ڈائون شروع کردیا۔ فورسز نے گھروں کے دروازے توڑ دیئے اور کئی افراد کے مویشی بھی ساتھ لے گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق معاملہ اس وقت شروع ہوا جب لاپتہ روہنگیا مسلمانوں میں سے 3 کی نعشیں برآمد ہوئیں۔ روہنگیا مسلمانوں نے نعشیں ملنے پر حکام سے رابطہ کیا تھا جس پر پولیس نے گائوں پر دھاوا بول دیا۔ یاد رہے گزشتہ 2 برس کے دوران بدھ بھکشوئوں کے حملوں میں 240 سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ اڑھائی لاکھ سے زائد افراد نے نقل مکانی کر لی تھی۔
نوائے وقت
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…