عراقی وزارت داخلہ کے ترجمان سعد مان نے بتایا کہ بغداد شہر کے نواحی علاقے کرادا میں کیتھولک چرچ میں سے عیسائی برادری کے لوگ دعائیہ تقریب کے بعد باہر نکل رہے تھے کہ قریب ہی کار بم دھماکا ہو گیا جس میں25 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ بغداد ہی کے ایک دوسرے عیسائی اکثریتی علاقے دورا میں مارکیٹ میں واقع سینٹ جونز چرچ کے قریب ہی کھڑی ایک گاڑی میں دھماکا ہوا جس میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور30 زخمی ہو گئے۔
عیسائی رہنما سعد سیروب نے تمام عراقی شہریوں کیلیے امن اور سیکیورٹی کی اپیل کی ہے۔ عراق میں2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک میں متعدد گرجا گھروں پر حملے ہو چکے ہیں اس کے بعد ملک میں صدیوں سے آباد عیسائی آبادی کی تعداد نصف رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق عراق میں پرتشدد واقعات میں صرف نومبر میں 659 افراد ہلاک ہوئے جس میں 565 عام شہری اور 94 سیکیورٹی اہل کار شامل ہیں جب کہ جنوری سے اب تک 950 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 7150 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…