ان فوجیوں نے لندن کے علاقے وولچ میں مسلمان شدت پسندوں کی جانب سے برطانوی فوج کے ایک ڈرمر کو دن دھاڑے سڑک پر ہلاک کیے جانے کے بعدگرمزبی کی مسجد کو آتشیں بموں سے نشانہ بنایا تھا۔
دونوں فوجیوں، سینتالیس سالہ گیون ہمفریز اور تینتیس سالہ ہارنس نے اسلامک کلچر سینٹر پر حملے کے الزام کو تسلیم کیا تھا۔
مئی 2013 میں مسجد پر حملے میں کوئی بھی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔
نومبر میں ایک اور شخص پچیس سالہ ڈینیل کریسی کو گرمزبی مسجد پر حملے میں مدد دینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
ڈینیل کریسی دونوں فوجیوں کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر مسجد پر حملے کے لیے وہاں لے کرگیا تھا لیکن خود حملے میں شریک نہیں ہوا تھا۔
لندن کے علاقے وولچ میں فوجی ڈرمر لی رگبی کو ہلاک کیے جانے کے چار روز بعد گرمزبی کی مسجد پر حملہ کیا گیا تھا۔
ہارنس اور ہمفریز دونوں سابق فوجی ہیں اور ان کے بم بنانے کا عمل ان کے گھر میں لگے کمیرا میں ریکارڈ ہو گیا تھا۔
جب دونوں فوجیوں نے مسجد پر حملہ کیا تھا وہ سی سی ٹی وی پر ریکارڈ ہو گیا تھا۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…