جن میں 28 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں۔ بمباری میں سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے، ذرائع ابلاغ کے مطابق حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر جنگی طیاروں سے دھماکا خیز مواد سے بھرے بیرل پھینکے جس سے بڑی تباہی ہوئی۔ بمباری میں 28 بچوں اور 4 خواتین سمیت 76 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بمباری کے بعدعلاقہ اٹا قصبہ کرم البیک ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ ادھراقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے باعث 2014ء کے آخرتک مشرق وسطیٰ میں شامی مہاجرین کی تعداد 4.1 ملین ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون اور دیگر عالمی رہنمائوں نے شامی فوج کے حملے میں بچوں اور خواتین کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…