دارالحکومت بغداد شہر کے جنوبی علاقے رشیدیہ میں شیعہ زائرین پر 2 کار بم دھماکوں میں17 افراد جاں بحق اور 52 زخمی ہوگئے۔ قبل ازیں بغداد شہر میں اور ارد گرد بھی 5 کار بم دھماکوں میں کم از کم 17 افراد جاں بحق اور قریبا 43 افراد زخمی ہوگئے۔ صوبہ صلاح الدین میں کے شہر تکریت کے سٹی کو نسل ہیڈکوارٹرز پر عسکریت پسندوں نے ایک بارود سے بھری کار عمارت سے ٹکرا دی اور اس کے بعد ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کرلیا۔ اس وقت دفتر کا عملہ بھی عمارت میں موجود تھا۔
سیکیورٹی فورسز نے عمارت کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور کاؤنٹر ٹیررازم سروسز کے ترجمان صباح نوری نے بتایا کہ فورسز نے کارروائی کرکے یرغمال بنائے گئے تمام 40 ملازمین کو بازیاب کرالیا‘ اس دوران ایک خود کش بمبار کو بھی مار دیا گیا جبکہ دیگر 2خود کش حملہ آوروں نے خود ہی اپنے آپ کو دھماکوں سے اڑا لیا جبکہ کارروائی کے دوران ایک سٹی کونسل ممبر اور 2 پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ دہشتگردوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے شہر کے تمام سرکاری اداروں کو بند کرا دیا اور ٹیچروں سمیت تمام ملازمین کو ایک دن کی چھٹی دیدی گئی۔
اس سے پہلے بائجی شہر میں دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کردیا اور القاعدہ کے درجنوں قیدیوں کو چھڑانے کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل کردیا‘ حکام نے صورتحال پر کنٹرول کے لئے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا۔ پہلے ایک خود کش بمبار نے بارود سے بھری کار پولیس سٹیشن کے مین گیٹ سے دھماکے کے ساتھ ٹکرا دی۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار