وزیرِ خارجہ فابیوس نے کہا کہ فرانس کوشاں ہے کہ آئندہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرائے لیکن اس میں ’بہت زیادہ شکوک و شبہات ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ فرانس جن حکومت مخالف معتدل گروہوں سے بات چیت کر رہا ہے وہ ’سنگین دشواریوں میں گھرے ہوئے ہیں۔‘
واضح رہے کہ امریکہ، اقوام متحدہ اور روس کئی مہینوں سے امن مذاکرات منعقد کرانے کے لیے اپنی اپنی کوششیں کر رہے ہیں جسے جنیوا-2 کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ان مذاکرات کا مقصد جنگ کا خاتمہ، انسانی ہمدردی کے تئيں تعاون اور رسد کی فراہمی اور شام میں سیاسی اقتدار کی منتقلی کے خط و خال کی یقین دہانی کرانی ہے۔
شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر ان مذاکرات میں شامل ہوں گے لیکن وہ پہلے سے طے شرائط قبول نہیں کریں گے اور ’دہشت گردوں‘ سے بات چیت نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ بشار الاسد حکومت اپنے تمام سیاسی اور عسکری مخالفین کو ’دہشت گرد‘ کی اصطلاح کے تحت دیکھتی ہے۔
حزب اختلاف نے کہا ہے کہ اس بحران کا کوئی بھی سیاسی حل صدر بشار الاسد کی برطرفی کے بغیر ممکن نہیں۔
بہر حال ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ 22 جنوری سے سوئٹزرلینڈ کے شہر مونٹریو میں شروع ہونے والی کانفرنس میں کون حصہ لیں گے۔
گذشتہ ہفتے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ابھی تک 30 ممالک کے نمائندوں نے اس میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ہے۔
مناکو میں عالمی پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فابیوس نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ اس ’مجوزہ امن کانفرنس کے نتائج کے بارے میں بہت مایوس ہیں۔‘
فابیوس نے کہا: ’ہم اپنے یورپی ہم منصب وزراء کے ساتھ اس کی کامیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہمیں اس کی کامیابی پر بہت زیادہ اعتماد نہیں ہے۔ اگر یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شہید ملک مشکلات سے مسلسل دوچار رہے گا اور اس کے پڑوسی بھی اس کے سایے میں مشکلات سے دوچار رہیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’خواہ صدر اسد میں لاکھوں خامیاں ہوں لیکن وہ احمق تو بالکل نہیں ہیں اور فرانس کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر وہ اپنا اقتدار کسی کو کیوں سونپیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’جہاں تک حزب اختلاف کا معاملہ ہے اور جس کی ہم لوگ حمایت کرتے ہیں وہ سخت مشکلات سے دوچار ہے۔‘
واضح رہے کہ فرانس ان ممالک میں شامل ہے جنھوں نے پہلے پہل شام کی آزادی کے لیے کوشاں فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) کی حمایت کی۔ ایف ایس اے صدر بشار الاسد کی مخالفت کرنے والی اہم عسکری قوت ہے اور سیاسی طور پر مختلف مخالف گروہوں کے اتحاد کو شامی قومی کونسل (ایس این سی) کا نام دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق مار چ سنہ 2011 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں تقریباً 23 لاکھ افراد پڑوسی ممالک ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں، جبکہ ملک کے اندر تقریباً 65 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…