Categories: مشرق وسطی

شام: جنیوا امن مذاکرت پر فرانس ’ناامید‘

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیوس نے کہا ہے کہ شام میں جاری تصادم پر مجوزہ امن مذاکرات کے بارے میں انھیں کوئی امید نہیں ہے۔

وزیرِ خارجہ فابیوس نے کہا کہ فرانس کوشاں ہے کہ آئندہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرائے لیکن اس میں ’بہت زیادہ شکوک و شبہات ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ فرانس جن حکومت مخالف معتدل گروہوں سے بات چیت کر رہا ہے وہ ’سنگین دشواریوں میں گھرے ہوئے ہیں۔‘
واضح رہے کہ امریکہ، اقوام متحدہ اور روس کئی مہینوں سے امن مذاکرات منعقد کرانے کے لیے اپنی اپنی کوششیں کر رہے ہیں جسے جنیوا-2 کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ان مذاکرات کا مقصد جنگ کا خاتمہ، انسانی ہمدردی کے تئيں تعاون اور رسد کی فراہمی اور شام میں سیاسی اقتدار کی منتقلی کے خط و خال کی یقین دہانی کرانی ہے۔
شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر ان مذاکرات میں شامل ہوں گے لیکن وہ پہلے سے طے شرائط قبول نہیں کریں گے اور ’دہشت گردوں‘ سے بات چیت نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ بشار الاسد حکومت اپنے تمام سیاسی اور عسکری مخالفین کو ’دہشت گرد‘ کی اصطلاح کے تحت دیکھتی ہے۔
حزب اختلاف نے کہا ہے کہ اس بحران کا کوئی بھی سیاسی حل صدر بشار الاسد کی برطرفی کے بغیر ممکن نہیں۔
بہر حال ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ 22 جنوری سے سوئٹزرلینڈ کے شہر مونٹریو میں شروع ہونے والی کانفرنس میں کون حصہ لیں گے۔
گذشتہ ہفتے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ابھی تک 30 ممالک کے نمائندوں نے اس میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ہے۔
مناکو میں عالمی پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فابیوس نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ اس ’مجوزہ امن کانفرنس کے نتائج کے بارے میں بہت مایوس ہیں۔‘
فابیوس نے کہا: ’ہم اپنے یورپی ہم منصب وزراء کے ساتھ اس کی کامیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہمیں اس کی کامیابی پر بہت زیادہ اعتماد نہیں ہے۔ اگر یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شہید ملک مشکلات سے مسلسل دوچار رہے گا اور اس کے پڑوسی بھی اس کے سایے میں مشکلات سے دوچار رہیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’خواہ صدر اسد میں لاکھوں خامیاں ہوں لیکن وہ احمق تو بالکل نہیں ہیں اور فرانس کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر وہ اپنا اقتدار کسی کو کیوں سونپیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’جہاں تک حزب اختلاف کا معاملہ ہے اور جس کی ہم لوگ حمایت کرتے ہیں وہ سخت مشکلات سے دوچار ہے۔‘
واضح رہے کہ فرانس ان ممالک میں شامل ہے جنھوں نے پہلے پہل شام کی آزادی کے لیے کوشاں فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) کی حمایت کی۔ ایف ایس اے صدر بشار الاسد کی مخالفت کرنے والی اہم عسکری قوت ہے اور سیاسی طور پر مختلف مخالف گروہوں کے اتحاد کو شامی قومی کونسل (ایس این سی) کا نام دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق مار چ سنہ 2011 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں تقریباً 23 لاکھ افراد پڑوسی ممالک ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں، جبکہ ملک کے اندر تقریباً 65 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

5 hours ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

5 hours ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

1 week ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

2 weeks ago

معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

2 weeks ago

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہو گی

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہو گی

2 weeks ago