فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے عبدالقادر ملا کو پھانسی دیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے گھناؤنا جنگی جرم قرار دیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ عبدالقادر ملا کوسزائے موت دے کر بنگالی حکومت نے بین الاقوامی معاہدوں، انسانی حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی بنگلا دیش کی ایک متحرک سیاسی جماعت ہے۔ اس کے مرکزی لیڈر کو اس بھیمانہ انداز میں پھانسی دینے کو کسی طورپربھی پسندیدہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ بنگالی حکومت کو عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کے سنگین مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈھاکہ اب اس اقدام کے منفی نتائج سے نہیں بچ سکتا۔
حماس کا کہنا ہے کہ پاکستان بچانے کی پاداش میں کسی لیڈر کوپھانسی پر لٹکانا صرف سیاسی انتقام ہے۔ حماس بنگالی حکومت سے پرز زور مطالبہ کرتی ہے کہ جماعت کے رہ نماؤں اور کارکنوں کے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات واپس لیے جائیں اور جن رہ نماؤں کو سزائیں دی گئی ہیں ان کی سزائیں فوری ختم کرکے انہیں رہا کیا جائے۔ حماس نے عبدالقادر ملا کی پھانسی کے اقدام کی عالمی سطح پر شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے،
خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بنگالی عدالت کے حکم پر جماعت اسلامی کے رہ نما عبدالقادر ملا کو پھانسی کی دی گئی تھی۔ ڈھاکا حکومت کے اس اقدام کے خلاف عالم اسلام میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…