Categories: بيانات

معاشرے کی اصلاح سب کی ذمہ داری ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے معاشرے میں گناہوں اور فساد کے پھیلاو پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ’امربالمعروف اور نہی عن المنکر‘ پر زور دیا۔ انہوں نے معاشرے کی اصلاح وتزکیہ کو تمام مسلمانوں کی ذمہ داری قرار دی۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبہ جمعہ، چھ دسمبر دوہزار تیرہ، کا آغاز قرآنی آیت: «كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ» [آل عمران:110]، (تم لوگ اچھی جماعت ہوکہ وہ جماعت لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے تم لوگ نیک کاموں کو بتلاتے ہو اور بُری باتوں سے روکتے ہو اور الله تعالیٰ پرایمان لاتےہو اور اگر اہلِ کتاب ایمان لےآتے توان کےلیے زیادہ اچھاہوتا ان میں سے بعضے تو مسلمان ہیں اور زیادہ حِصّہ ان میں سے کافر ہیں۔) کی تلاوت سے کیا۔ انہوں نے دنیا کو انسان کے لیے آزمائش وامتحان کا مقام قرار دیتے ہوئے کہا: ہم سب ایک عظیم اور سخت امتحان میں ہیں اور فرشتے ہماری تمام حرکات وسکنات ضبط کررہے ہیں۔ اللہ تعالی ہم کو مختلف قسم کے گناہوں، برائیوں اور اچھائیوں سے آزمائش میں ڈالتاہے؛ نفس اور خواہشات کے مطابق گناہ سامنے آتے ہیں جو ہمارے امتحان کے لیے ہیں۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: اللہ رب العزت نے انسانیت کی ہدایت ورہنمائی کیلیے انبیائے کرام علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کو بھیجا؛ انہی ذرائع سے اللہ تعالی نے ہم پر واضح فرمایاہے کہ کون سے اعمال سے دوری کرنی چاہیے اور کن اعمال کو بجا لانا چاہیے۔ اللہ تعالی نے بعض اعمال کو جو بہت اہم اور ضروری تھے واجب قرار دیاہے اور دوسرے اعمال جو خطرناک ہیں اور انسان کو تباہی تک پہنچادیتے ہیں، انہیں حرام قرار دیا اور یہ سب پیغمبروں کے ذریعے بتایاگیا۔

انہوں نے مزیدکہا: اللہ کے احکام کے بیان اور تشریح کی ذمہ داری انبیائے کرام نے بخوبی سرانجام دیا اور ان کی امتیوں نے بھی اس مہم میں حصہ لیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے نبوت کا دروازہ بند ہوگیا۔ لہذا دعوت الی اللہ اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی عظیم ذمہ داری اب مسلمانوں پر ہے۔ مسلم امہ کا ہرفرد معاشرے کی اصلاح میں ذمہ دار ہے۔ جو کام انبیائے کرام علیہم السلام کیاکرتے تھے اب امت کے ذمے پر آچکاہے۔

امربالمعروف پر زور دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: یہ دنیا کا قانون ہے کہ ایک گناہ کے ارتکاب سے کئی اور گناہوں کا ارتکاب لازم آتاہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد الہی ہے کہ جو فرد ناحق سے کسی بندے کو قتل کرتاہے دراصل اس نے تمام انسانوں کو قتل کیاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان قتل ہوتاہے تو اس سے معاشرے میں قتل ناحق جیسے گناہوں کیلیے رستہ ہموار ہوجاتاہے۔ قتل، سودخوری اور زنا جیسے گناہوں سے دوسرے لوگ بھی حوصلہ مند ہوتے ہیں۔ گناہ سے مزید گناہ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ایسے میں لوگوں کو اچھائی کی ترغیب دینا اور برائی سے منع کرنا انتہائی ضروری ہے؛ اگر لوگ خود کو لاتعلق سمجھ کر بیٹھیں تو معاشرے کی اصلاح کیسے ممکن ہوگی؟ اسلام ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ پورے مسلم معاشرے کا ہرفرد ذمہ دار ہے۔ جو یہ سمجھتاہے کہ میں خود نماز قائم کرتاہوں، زکات دیتاہوں اور شریعت کے دیگر احکام بجا لاتاہوں لیکن دوسروں کے اعمال سے میرا کوئی تعلق نہیں، تو یہ ایک غلط سوچ ہے اور یہ لوگ بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔

شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان کے صدرنے اسلام کو ذمہ داری کا دین قرار دیتے ہوئے کہا: کسی مسلمان کو گناہ پر خاموش نہیں رہنا چاہیے، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری کا تقاضا یہی ہے کہ سمجھداری اور حکمت سے ردعمل کا اظہار کرنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب کسی کو گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھتے تھے تو اس پر ہرگز خاموش نہیں رہتے، بلکہ حکمت کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر اقدام فرماتے تھے۔

مولانا نے ’نہی عن المنکر‘ کے مراحل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: دوسروں کو برائی سے روکنے کے کچھ مراحل ہیں؛ سب سے پہلے ہاتھ سے روکنے کی باری آتی ہے۔ اگر بندہ اس پر قادر ہو تو یہ بہترین نہی عن المنکر ہوگا۔ یہ ذمہ داری حکام اور حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کہ دوسروں کو گناہوں کے ارتکاب سے منع کریں اور طاقت سے انہیں روک دیں۔ اس کے بعد زبان کانمبر ہے۔ یعنی زبان کے استعمال سے لوگوں کو اچھائی کی جانب بلائیں اور برائی سے اجتناب کی ترغیب دیں۔ اگر کوئی اس پر بھی قادر نہ ہو تو اسے کم ازکم دل میںگناہ کے ارتکاب پر افسوس اور رنجش ہونی چاہیے۔ یہ سب سے نچلا درجہ ہے۔ اگر نہی عن المنکر کی ذمہ داری کے حوالے سے سستی وغفلت کا مظاہرہ کیاجائے تو معاشرہ گناہوں اور معاصی کے دلدل میں پھنس جائے گا۔

انہوں نے کہا: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیاہے کہ جب گناہ معاشرے میں عام ہوجائے تو اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوتاہے، ایسے میں صالح لوگ دعا کریں گے لیکن ان کی دعا قبول نہ ہوگی۔ آج کل لوگ بکثرت شکوہ کرتے ہیں کہ ہم دعا کرتے ہیں لیکن قبولیت کا کوئی اثر سامنے نہیں آتا۔ دعاوں کی عدم قبولیت کی ایک وجہ گناہوں کا پھیلاو اور اس پر ہماری مجرمانہ خاموشی ہے۔

خطیب اہل سنت نے گناہوں اور معاصی کو وبائی امراض کی مانند قرار دیتے ہوئے کہا: جس طرح بعض امراض وبائی اور چھوت والی ہوتی ہیں اور صحت عامہ کے ذمے دار افراد لوگوں کے جسمانی بچاو کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح اکثر گناہ چھوت والی ہیں جن سے معاشرے کی روحانی ومادی صحت خطرے میں پڑجاتی ہے۔ اگر بے نمازی، کاہل نمازی، سودخوری، بدکاری، غیبت اور ان جیسے دیگر معاصی کا مقابلہ نہ کیاگیا تو اس کے منفی اثرات سے پورا معاشرہ متاثر ہوگا۔ حتی کہ کسی گھر میں جب نمازیں قضا کی جائیں اور قرآن پاک کی تلاوت نہ ہو، اس گھر کے باشندوں پر غفلت کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ گناہ کینسر کی طرح پورے معاشرے کیلیے تباہ کن اور خطرناک ہیں۔

اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے اصلاح معاشرہ کو ایک عوامی ذمہ داری یاد کرتے ہوئے کہا: یہ بات خوب ذہن میں رہے کہ دعوت وتبلیغ صرف اہل علم، حضرات مبلغین اور علمائے کرام کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ معاشرے کا ہرفرد اپنی حد تک اس مہم میں ذمہ دارہے تاکہ اپنی فکروعمل سے معاشرے کی اصلاح کی فکر کرے۔

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago