غیر ملکی خبر رساں ادارے گذ شتہ شب سینکڑوں عسکریت پسندوں نے بورنو ریاست کے دارالحکومت میدوگوری کے نواح میں واقع ایک ایئر بیس کے علاوہ بین الاقوامی ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا۔ وزارت دفاع کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق جنگجوؤں نے اس حملے میں دو ہیلی کاپٹر اور تین ملٹری ایئر کرافٹس تباہ کر دیے۔ بتایا گیا ہے کہ تباہ کر دیے گئے یہ ملٹری ایئر کرافٹس اب فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیے جا رہے تھے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل کرس اْولو کولاڈو کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ان عسکریت پسندوں نے کچھ دیگر فوجی اڈوں اور سکیورٹی چیک پوائنٹس کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بوکو حرام کے جنگجوؤں کی اس کارروائی کے نتیجے میں درجنوں افراد کے ہلاک ہوجانے کا امکان ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ جوابی کارروائی میں کم ازکم چوبیس جنگجو ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ کرس اْولو کولاڈو کے بقول فوجی جوانوں نے عسکریت پسندوں کے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اس حملے کے فوری بعد ہی حکام نے مقامی آبادی کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی اور میدوگوری میں چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ کر دیا۔ یہ امر اہم ہے کہ نائیجیریا کو شمال مشرقی علاقے میں انتہا پسند تنظیم بوکو حرام کے جنگجو فعال ہیں اور وہاں ماضی میں بھی اس طرح کی پرتشدد کارروائیوں کی ذمہ داری اسی باغی گروہ پر عائد کی جا چکی ہیں۔ میدو گوری شہر کو اس کالعدم گروہ کا گڑھ بھی قرار دیا جاتا ہے اور بورنو ریاست کے متعدد علاقوں میں پہلے سے ہی کرفیو نافذ ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں جنگجوؤں نے خود کار اسلحے کا استعمال کیا اور اس دوران متعدد دھماکے بھی سنے گئے۔ حکومتی اور فوجی حکام نے بتایا ہے کہ اس کارروائی میں درجنوں افراد کے ہلاک ہو جانے کا خدشہ ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد میدوگوری کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ تاہم بعد ازاں سکیورٹی چیک اپ کے بعد اس ہوائی اڈے کو کلیئر قرار دے دیا۔ ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حملے میں کم از کم پانچ سو جنگجوؤں نے حصہ لیا۔ اس حملے کے بعد حکومتی ایوانوں میں بحث شروع ہو گئی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں عسکریت پسند سکیورٹی فورسز سے چھپ کر حساس علاقے میں کس طرح پہنچے۔ تاہم ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ یہ جنگجو چوری کی فوجی گاڑیوں میں سوار تھے۔ سکیورٹی ناقدین بوکو حرام کی اس نئی کارروائی کو حکومت کے لیے ایک دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابوجا حکومت ابھی تک اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر سکی ہے۔
اردو ٹائمز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…