اس طرح ایک سال کے دوران 6200عراقی شہری لقمہ اجل بن گئے جبکہ عراقی حکام کا کہناہے کہ ان حملوںکے پیچھے القاعدہ شدت پسندوںکا ہاتھ ہے جوہمسایہ ملک شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث یہاںکا رخ کررہے ہیںاور ملک کاامن تباہ کررہے ہیں۔ بغدادکے مغربی علاقوںاور ابوغریب، فلوجہ، بعقوبہ، تکریت، سمارا، موصل اور ترمیاح میںتازہ پرتشدد واقعات پیش آئے۔ بغدادشہر کے نواحی علاقے ترمیاح میںسڑک کنارے نصب 2بم دھماکوںکے نتیجے میںزیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ جب لوگ دھماکوںوالی جگہوںپر اکٹھے ہوئے توان پر خودکش بم دھماکے کردیے گئے جس سے 9 افراد جاںبحق اور 17زخمی ہوگئے۔
دیگر واقعات میں بھی 14 افراد مارے گئے اوردرجنوں زخمی ہیں۔ بغدادکے علاقے بایع میں ایک کاربم دھماکے میں 6 افراد جاںبحق ہوگئے۔ امریاح میںبھی بم دھماکے میں 5 زخمی ہوئے۔ صوبہ انبارکے شہروں ابوغریب اور فلوجہ میںبم دھماکوںمیں 3افراد مارے گئے۔ موصل اور بعقوبہ میںبم دھماکوںمیں بھی 3افراد مارے گئے۔ تکریت شہر میں پولیس اہلکاروںکے ایک ویلفیئرسینٹر پرشدت پسندوں کے حملے میں 2پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے جسکے بعد سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوںمیں جھڑپ بھی ہوئی اور حکام کے مطابق تکریت میں 2خودکش بمباروںکو بھی ماردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز
امانت داری اہم اخلاقی قدر ہے؛ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا لحاظ رکھنا…
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…