شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 30 اکتوبر 2026ء کو زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کے پہلے حصے میں امانت کے وسیع مفہوم کی طرف اشارہ کیا اور امانت داری کو انسان کی اہم ترین دینی اور اخلاقی ذمہ داریوں میں شمار کیا۔ انہوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں اس اصول کی پابندی پر زور دیا۔
دینداری کا تقاضا ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں امانت داری کا لحاظ رکھا جائے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اسلامی تعلیمات میں امانت داری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ عام طور پر امانت سے مراد وہ مال ہوتا ہے جسے کوئی شخص حفاظت کے لیے کسی دوسرے کے سپرد کرتا ہے، لیکن امانت کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو شامل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کوئی بھی شخص امانت داری کی ذمہ داری سے مستثنیٰ نہیں ہے، کہا: ہم سب کسی نہ کسی حیثیت سے امانت دار ہیں اور ہم پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ دینداری کا مطلب یہ ہے کہ انسان زندگی کے تمام شعبوں میں امانت داری کا خیال رکھے۔ اس لیے امانت کو صرف مالی معاملات تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ انفرادی، خاندانی اور سماجی امور سمیت ہر اس ذمہ داری میں امانت داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے جو ہمارے سپرد کی گئی ہے۔
اسلام اور شریعت کے احکام ہمارے پاس اللہ کی امانت ہیں
زاہدان کے خطیب جمعہ نے شریعت کے احکام کو بھی ایک امانت قرار دیتے ہوئے کہا: امانت کا بوجھ اتنا بھاری اور اس کی ذمہ داری اتنی عظیم ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسے زمین، آسمانوں اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اسے اٹھانے سے اپنی عاجزی اور بے بسی کا اظہار کیا؛ لیکن انسان نے اس امید پر کہ امانت کا حق ادا کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرے گا، اسے قبول کرلیا اور اس ذمہ داری کو اٹھانے پر آمادہ ہوگیا۔
انہوں نے مزید کہا: اسلام اور اللہ تعالیٰ کے احکام درحقیقت ہمارے پاس امانت ہیں۔ ہم قرآن کریم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث اور اپنے اسلاف و بزرگوں کے نیک ورثے کے امین ہیں۔ انسان کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک امانت کی حفاظت کرنا ہے۔ دین کی امانت کی پاسداری، اس کا دفاع اور اس کے احکام پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس امانت کو صحیح سالم حالت میں دوسروں اور آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔ جو شخص امانت کا حق ادا کرے گا، اللہ تعالیٰ کی رضا اس کے شامل حال ہوگی اور اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا، لیکن جو امانت میں خیانت کرے گا، اس کا انجام جہنم ہوگا۔
عدل و انصاف بھی اللہ کی امانت ہیں، فیصلوں میں ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے
زاہدان کے خطیب جمعہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کی جائیں۔ اگر ہمیں کسی معاملے میں فیصلہ یا کسی کے بارے میں حکم لگانا ہو تو انصاف اور عدل کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ عدل بھی اللہ کی امانت ہے اور ہم اس بات کے پابند ہیں کہ انصاف کے ساتھ کام کریں۔
انہوں نے مزید کہا: حکمرانوں، ججوں، بزرگوں اور عام لوگوں سمیت سب کو انصاف اور اللہ کے قانون کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی جج منصبِ فیصلہ پر فائز ہوکر اللہ کے حکم کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو اس کا یہ عمل امانت داری کے اصول کے منافی ہے۔
علم اور مہارت بھی امانت ہیں، انہیں صحیح طریقے سے استعمال کرنا چاہیے
مولانا عبدالحمید نے امانت داری کو اسلام کے اہم اخلاقی موضوعات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا: علم، تعلیم اور مہارت بھی ایسی امانتیں ہیں جو انسان کے سپرد کی گئی ہیں۔ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ اپنے تجربے اور مہارت کو درست اور مناسب انداز میں دوسروں کے کام لائے اور رہنمائی و مشورے میں بھی صحیح طرزِ عمل اختیار کرے۔
انہوں نے کہا: جس شخص نے ڈاکٹریٹ اور کسی شعبے میں تخصص کی ڈگری حاصل کی ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ مریضوں پر ظلم نہ کرے اور ان کے ساتھ شفقت و مہربانی سے پیش آئے۔ اسی طرح ہر سربراہ اور عہدیدار کو اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے ادا کرنی چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ صرف اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی خدمت کرے۔
انہوں نے خاندان کے افراد کی باہمی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: شوہر کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اہل خانہ کے جائز حقوق اور ضروریات پوری کرے۔ اسی طرح بیوی بھی اپنے شوہر کے گھریلو سامان و دولت، اپنی اور اپنے شوہر کی عزت و آبرو اور بچوں کی امانت دار ہے۔
مساجد، دینی مدارس، اسکولوں، یونیورسٹیوں اور دفاتر کے ذمہ داران اپنی امانت اور ذمہ داری کا حق ادا کریں
زاہدان کے اہل سنت خطیب نے سماجی اور انتظامی ذمہ داریوں میں بھی امانت کے وسیع مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ جو شخص بھی کسی مسجد، دینی مدرسے، اسکول، یونیورسٹی، دفتر یا وزارت خانے کا ذمہ دار ہے، اسے امانت داری کا لحاظ رکھنا اور اپنی ذمہ داری صحیح طور پر ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا: ممکن ہے قیامت کے دن کسی مسجد کے ذمہ داروں سے اللہ تعالیٰ یہ سوال کرے کہ انہوں نے لوگوں کو مسجد سے دور کیوں کیا یا مسجد کی صفائی اور اس کی امانت کا خیال کیوں نہیں رکھا۔ اسی طرح علما، اساتذہ اور دعوت و تبلیغ سے وابستہ افراد سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق حق بات پہنچائی اور جو ذمہ داری قبول کی تھی، اسے صحیح طریقے سے ادا کیا یا نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تمام انسانوں کی خیرخواہی کی نصیحت فرمائی
زاہدان کے مرکزی خطیب نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں تمام انسانوں کے لیے خیرخواہی اور ہمدردی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں سے تین باتوں کا عہد لیتے تھے: نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا اور تمام لوگوں کی خیرخواہی کرنا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے: دین خیرخواہی کا نام ہے؛ اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے پیشواؤں اور حکمرانوں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے۔
خیرخواہی کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیرخواہی کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اس کے احکام کی اطاعت کریں اور گناہ و نافرمانی سے بچیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیرخواہی کا مطلب بھی آپ کی اطاعت کرنا اور آپ کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: عام لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے لیے ہمدردی رکھیں، ان کے حقوق کا دفاع کریں اور ان کی صحیح رہنمائی کریں۔ علما اور حکمرانوں کے حوالے سے بھی خیرخواہی کا تقاضا یہ ہے کہ اگر وہ درست راستے پر چل رہے ہوں تو ان کے خلاف بغاوت اور سرکشی نہ کی جائے، اور اگر ان سے کوئی غلطی ہو تو ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ ان پر تنقید کی جائے۔
کسی قوم سے دشمنی ہمیں اس کے ساتھ ناانصافی پر آمادہ نہ کرے
ایران کے ممتاز عالم دین نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو؛ انصاف کیا کرو۔‘‘ کسی گروہ یا قوم کے ساتھ تمہاری دشمنی اس بات کا سبب نہیں بننی چاہیے کہ تم انصاف کو پامال کرو، بلکہ تمہیں عدل و انصاف کا پابند رہنا چاہیے۔ ہم اپنے مخالفین کے بارے میں بھی منصفانہ فیصلہ کرنے کے پابند ہیں۔ ان سے دشمنی ہمیں ان کے بارے میں ناانصافی پر مبنی رائے قائم کرنے پر آمادہ نہ کرے۔ اگر کوئی ایسا شخص جس سے ہمارا اختلاف ہے، کسی معاملے میں حق پر ہو تو ہمیں اس کا حق تسلیم کرنا چاہیے اور اس پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔
دنیا کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق، عدل اور سادہ طرزِ زندگی سے متاثر ہوئے
دارالعلوم زاہدان کے صدر نے اسلامی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے مختلف اقوام پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اسلام کے احکام اور اس کے دینی نظام کی بنیاد عدل و انصاف پر ہے اور ان میں کسی قسم کی جانبداری نہیں۔ دنیا کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کی منصفانہ، سادہ اور بے تکلف زندگی سے متاثر ہوئے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: لوگ محض باتوں، ناموں اور القاب سے متاثر نہیں ہوئے، بلکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار اور انسانیت کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ یہی صحیح راستہ ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: مختلف اقوام مسلمانوں کی حکومتوں، حکام اور امور کے ذمہ داران کے منصفانہ طرزِ عمل، نیز لوگوں کے تقویٰ اور اچھے اخلاق سے متاثر ہوئیں اور اس دین کی طرف مائل ہوئیں۔ اسلام کے احکام اور اس کا نظام عدل و انصاف کی بنیادوں پر اس قدر مضبوطی سے قائم ہے کہ اگر ان پر صحیح طور پر عمل کیا جائے تو وہ انسانوں کے دلوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکتے ہیں۔
آج لوگ بڑے ناموں اور نعروں سے نہیں، بلکہ اخلاق اور عملی کارکردگی سے متاثر ہوتے ہیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بعض افراد اور حکام کے دعوؤں اور ان کی عملی کارکردگی کے درمیان پائے جانے والے فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، رویوں اور ذمہ داریوں پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: آج بھی لوگ بڑے ناموں اور نعروں سے متاثر نہیں ہوتے، بلکہ وہ اخلاق اور عملی کارکردگی کو دیکھتے ہیں۔ اس لیے ہم سب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہمیں تمام معاملات میں امانت داری کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
جب تک عوام کے جائز مطالبات کا مثبت جواب نہیں دیا جاتا، مطالبہ اور حق طلبی کا سلسلہ جاری رہے گا
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں کہا کہ ایرانی قوم نے گزشتہ برسوں کے دوران ’’عدل و انصاف کے نفاذ‘‘ اور ’’اپنے جائز مطالبات کے حصول‘‘ کے لیے بہت سی مشکلات اور مصائب برداشت کیے ہیں۔ انہوں نے ملک کے حکام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عوام کے ان جائز مطالبات کا مثبت جواب نہیں دیا جاتا اور ان پر توجہ نہیں دی جاتی، مطالبہ کرنے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ایرانی قوم نے 1979ء کے انقلاب میں آزادی، عدل و انصاف اور امور کی باصلاحیت و اہل افراد کے سپردگی کا مطالبہ کیا تھا
مولانا عبدالحمید نے کہا: ایرانی عوام عدل و انصاف کا نفاذ چاہتے ہیں اور گزشتہ برسوں میں اس مطالبے کے حصول کے لیے انہوں نے بہت سی مشکلات اور مصائب برداشت کیے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے اپنے عزیزوں کو کھویا ہے اور بہت سے افراد اب بھی جیلوں میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ایرانی قوم نے 1979ء کے انقلاب میں کسی خاص شخصیت کے لیے قیام نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس کے لیے مشکلات اور مصائب برداشت کیے تھے، بلکہ وہ اپنے مقدس مقاصد اور جائز مطالبات کے حصول کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ایرانی عوام نے اس انقلاب میں آزادی اور عدل و انصاف کے نفاذ کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ پوری قوم، مرد و خواتین، مختلف اقوام اور مذاہب کے پیروکار، سب انصاف کے سائے میں زندگی گزار سکیں۔ عوام چاہتے تھے کہ ملک کے امور ایسے اہل اور باصلاحیت افراد کے سپرد ہوں جو انہیں بہتر انداز میں چلا سکیں۔
عوام کے مقاصد اور مطالبات پورے نہ ہونے سے بے اطمینانی پیدا ہوئی اور احتجاج شروع ہوئے
زاہدان کے امام جمعہ نے کہا: جب عوام کے مقاصد اور مطالبات پورے نہیں ہوئے تو معاشرے میں بے اطمینانی پیدا ہوئی اور عوامی احتجاجات دوبارہ شروع ہوگئے۔ آج بھی لوگ وہی مطالبات پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: اگر آپ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں سکون قائم ہو اور قوم کی رضامندی حاصل ہو تو ایرانی عوام کی بات سنیے اور ان مطالبات پر توجہ دیجیے جو گزشتہ برسوں سے پیش کیے جا رہے ہیں اور آج بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
عوام عدل و انصاف اور قومی دولت و بیت المال کو ایرانی قوم کے مفاد میں خرچ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں
مولانا عبدالحمید نے کہا: عوام عدل و انصاف چاہتے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ ملک کے تمام اثاثے اور سرمایہ، جو قومی مفادات اور بیت المال کا حصہ ہیں، عوام کی بھلائی کے لیے خرچ کیے جائیں۔ ایرانی عوام کا مطالبہ ہے کہ مالی بدعنوانیوں کا خاتمہ کیا جائے، ملک معاشی طور پر ترقی کرے اور اقوام و ممالک کے درمیان اس مقام تک پہنچے جس کا وہ مستحق ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ایران ایک ایسا ملک ہے جس کے عوام میں صلاحیت، قابلیت اور بے پناہ استعداد موجود ہے۔ اس ملک میں مادی وسائل اور ذخائر بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔ اتنی صلاحیتوں اور وسائل کے حامل ملک کے عوام کو بھوکا کیوں رہنا چاہیے اور دباؤ و مشکلات میں زندگی کیوں گزارنی چاہیے؟ عوام اس صورتِ حال کو قبول نہیں کرتے اور نہ ہی اسے برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پھانسیوں اور جبری اعترافات کا خاتمہ ایرانی عوام کی بھاری اکثریت کا مطالبہ ہے
مولانا عبدالحمید نے ’’پھانسیوں اور جبری اعترافات کے خاتمے‘‘ پر زور دیتے ہوئے کہا: چند افراد کو چھوڑ کر ایرانی عوام کی بھاری اکثریت ملک میں پھانسیوں کے سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ پھانسیاں ایرانی قوم اور پوری دنیا کے لیے نہایت تکلیف دہ ہیں اور بین الاقوامی و انسانی حقوق کے ادارے بھی ان پر اعتراض کر رہے ہیں۔
ایران کے ممتاز عالم دین نے مزید کہا: ایرانی عوام کا ایک اور مطالبہ یہ ہے کہ حراستی مراکز میں لوگوں سے جبری اعترافات لینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ یہ جبری اعترافات اسلامی شریعت کے خلاف ہیں اور اسی طرح جو پھانسیاں دی جاتی ہیں، ان کی بھی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ایک گہری اور بنیادی تبدیلی عوام کے مطالبات کی تکمیل کی جانب ایک قدم ثابت ہوسکتی ہے
زاہدان کے خطیب جمعہ نے کہا: ایرانی عوام کے بیشتر مطالبات جائز ہیں اور جب تک حکام ان مطالبات کا مثبت جواب نہیں دیتے، یقین رکھیے کہ حق طلبی اور مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا: ایک گہری اور بنیادی تبدیلی عوام کے مطالبات کی تکمیل کی سمت ایک قدم آگے بڑھ سکتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ملک کے حالات ایسے سازگار ہوں گے کہ عوام اپنے جائز مطالبات حاصل کرسکیں گے۔
مقامی حکام کی تقرری صوبوں کے عوام کا عمومی مطالبہ ہے؛ مقامی حکام کو علاقے کا زیادہ علم اور اس کے لیے زیادہ درد مندی ہوتی ہے
مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع سے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں سیستان و بلوچستان سمیت مختلف صوبوں میں مقامی افراد کو ذمہ داریاں سونپنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اہل اور باصلاحیت مقامی افراد کی تقرری ہمیشہ تمام صوبوں اور بالخصوص سیستان و بلوچستان کے عوام کے اہم مطالبات میں سے ایک رہی ہے، کیونکہ مقامی افراد کو اپنے علاقے کے حالات کا زیادہ علم ہوتا ہے اور وہ اس کے لیے زیادہ درد مندی رکھتے ہیں۔
موجودہ ملکی حالات میں سیستان و بلوچستان کی مقامی انتظامیہ میں تبدیلی کسی کے مفاد میں نہیں
زاہدان کے مرکزی خطیب نے سیستان و بلوچستان کے گورنر، جو صوبے کے مقامی بلوچ باشندے ہیں، کی تبدیلی کی بعض کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انقلاب کے بعد گزرنے والے اڑتالیس برسوں میں سیستان و بلوچستان میں صرف دو مرتبہ مقامی افراد کو گورنر کے منصب پر فائز کیا گیا ہے، جن میں سے ایک موجودہ انتظامیہ ہے۔ سیستان و بلوچستان کے انتظامی امور میں مقامی فرد کی تقرری صوبے کے عوام کا عمومی مطالبہ رہا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں یہ سننے میں آ رہا ہے کہ بعض حلقے اس مقامی فرد کی گورنر کے منصب پر موجودگی برداشت نہیں کر پا رہے اور انہیں تبدیل کرکے کہیں اور منتقل کرنے کے لیے کوششیں اور سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں؛ حالانکہ صوبے کے مقامی گورنر نے ملک کے موجودہ غیر معمولی حالات کے باوجود اپنی بھرپور کوششیں کی ہیں اور انہیں زیادہ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا: ملک کے موجودہ حالات میں صوبے کے لیے ایک مقامی منتظم کسی بھی دوسرے فرد کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔ لہٰذا ایسے حالات میں صوبے کی مقامی انتظامیہ کو تبدیل کرنا اور اس کے سربراہ کو ہٹانا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔