مولانا عبدالحمید: بیرونی مسائل حل کرانے کے ساتھ داخلی بحرانوں پربھی توجہ دیں

ممتازایرانی سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے جوہری پروگرام پر معاہدے کو خارجی مسائل کے حل کی جانب اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے قومی سطح پر مختلف اقوام وبرادریوں کے مسائل حل کرنے پر زور دیاہے۔

مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اتوار چوبیس نومبر کی شام میں ایرانی بلوچستان کے ساحلی شہر چابہار میں ہزاروں شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: بالاخر ایران اپنے جوہری پروگرام کے مسئلے پر عالمی طاقتوں سے کسی متفقہ نقطہ نظر پر پہنچ گیا؛ یہ ’حکمت وامید‘ کی حکومت کیلیے بڑی کامیابی ہے۔ آج دنیا کی طاقتوں نے تسلیم کرلیا نیوکلیئرانرجی ایران کا مسلمہ حق ہے۔ یہ معاہدہ پوری قوم اور حکومت کیلیے کامیابی ہے۔

اہل سنت ایران کے سرکردہ رہنما نے جلسہ عام سے خطاب کے دوران کہا: میرے خیال میں ایرانی قوم اور حکومت تین اہم مسائل وبحرانوں سے دوچارہیں؛ دو بحران بیرون ملک کے متعلق ہیں جن میں ایک ہمارا جوہری مسئلہ تھا جو کسی حدتک حل ہوچکاہے۔ دوسرا بیرونی مسئلہ فرقہ واریت کا رنگ اختیار کرنے والی خانہ جنگی ہے جو بطور خاص شام وعراق میں زور پکڑتی جارہی ہے۔ ہمیں ان سے بھی نمٹنا ہوگا اور مسلمانوں کے درمیان لڑائیاں ختم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک وقوم کی خیر اسی میں ہے۔

اندرونی بحران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: داخلی سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں کے اختلافات، اقوام ومذاہب کے مطالبات اور ملک کی سیادت میں انہیں شرکت دینے کا مسئلہ ہے؛ امید ہے جس طرح صدرمملکت نے وعدہ دیاہے یہ مسائل حل ہوجائیں، ان شاءاللہ۔

’شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان‘ کے صدر نے اپنے خطاب کے دوران مسٹر مبارکی کی تقرری بطور جنرل ڈائریکٹر برائے ’چابہار فری زون‘ کو ایک مثبت قدم قرار دیا جو مستقبل میں مقامی اور بلوچ شہریوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کیلیے اچھا آغاز ہوسکتاہے۔ حکومت کو مقامی شہریوں پر مزید اعتماد کرنا چاہیے تاکہ قانون کے دائرے میں بلوچ قوم کے مسائل حل ہوجائیں۔ قومی وفاق تمام مسالک واقوام پر بھروسہ کرنے سے حاصل ہوسکتاہے؛ جب پوری قوم اپنے ملک کی تقدیر میں حصہ دار بن جائے اور امتیازی رویوں کا سدباب کیاجائے تب ایران ایک مستحکم اور پرامن ملک بن جائے گا۔ میں نے صدرسے اپنی پہلی ملاقات کے دوران بھی یہی عرض کیا تھا۔

اپنے خطاب میں مولانا عبدالحمید نے پوری قوم کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے صدارتی انتخابات میں زورشور سے شرکت کرکے پوری دنیا کو حیرت میں ڈالا۔ قوم نے ثابت کردیا کہ وہ بہت سارے سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں سے بھی آگے ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

1 month ago