صدر مائیکل سلیمان نے حزب اللہ کی ملک سے باہر مسلسل جاری سرگرمیوں پر اور غیر ملکی کنٹرول میں رہ کر شام کی خانہ جنگی کا حصہ بننے پر بھی تنقید کی۔
لبنانی صدر کا کہنا تھا ” ایک ریاست اپنے استحکام کو برقرار نہیں رکھ سکتی اگر مختلف جماعتیں اور گروہ اس منظق سے دور رہیں جو ریاست کے لیے ضروری ہے، یا ایسے گروپ قومی اتفاق رائے کے بغیر اپنے طور پر سرحد پار جا کر مسلح تصادم کا حصہ بن جائیں ، تو یہ گروپ قومی اتحاد اور سماجی امن کیلیے خطرہ بن جاتے ہیں۔”
دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ شیعوں کے تحفظ کیلیے بشارالاسد کی مدد کر رہی ہے، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اسی ماہ کہا ہے کہ ” ہمارے لوگ اسرائیلی سازش کا مقابلہ کرنے کیلیے شام میں موجود رہیں گے۔” جبکہ صدر نے شام کی خانہ جنگی سے فوری طور پر الگ ہونے کی اپیل کی ہے۔
صدر مائیکل سلیمان نے حزب اللہ کا نام لیے بغیر کہا” لبنانی فوج کو مسلح گروپوں کی طرف سے ملک اندر اسلحے کے استعمال پر کنٹرول پانا چاہیے۔”
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…