صدر مائیکل سلیمان نے حزب اللہ کی ملک سے باہر مسلسل جاری سرگرمیوں پر اور غیر ملکی کنٹرول میں رہ کر شام کی خانہ جنگی کا حصہ بننے پر بھی تنقید کی۔
لبنانی صدر کا کہنا تھا ” ایک ریاست اپنے استحکام کو برقرار نہیں رکھ سکتی اگر مختلف جماعتیں اور گروہ اس منظق سے دور رہیں جو ریاست کے لیے ضروری ہے، یا ایسے گروپ قومی اتفاق رائے کے بغیر اپنے طور پر سرحد پار جا کر مسلح تصادم کا حصہ بن جائیں ، تو یہ گروپ قومی اتحاد اور سماجی امن کیلیے خطرہ بن جاتے ہیں۔”
دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ شیعوں کے تحفظ کیلیے بشارالاسد کی مدد کر رہی ہے، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اسی ماہ کہا ہے کہ ” ہمارے لوگ اسرائیلی سازش کا مقابلہ کرنے کیلیے شام میں موجود رہیں گے۔” جبکہ صدر نے شام کی خانہ جنگی سے فوری طور پر الگ ہونے کی اپیل کی ہے۔
صدر مائیکل سلیمان نے حزب اللہ کا نام لیے بغیر کہا” لبنانی فوج کو مسلح گروپوں کی طرف سے ملک اندر اسلحے کے استعمال پر کنٹرول پانا چاہیے۔”
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…