سرکاری حکام کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں 8 دھماکے ہوئے جس میں سے 7 کار بم دھماکے تھے جس کے نتیجے میں 36 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے، بغداد کے شمالی علاقے ادحامیہ میں زوردار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں اور گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
عراق کے شمالی علاقے سلیمانیہ میں 3 مسلح افراد عراقی صدر جلال طالبانی کے چیف سیکیورٹی آفیسر کرنل ثروت راشد کے گھر میں گھس گئے اور اس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا، موصل میں فائرنگ کے مختلف واقعات اور ابو غریب اور بہروزکے علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے، کسی بھی گروپ کی جانب سے تاحال دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ۔
واضح رہے کہ عراق میں جاری فرقہ وارانہ فسادات میں نومبر میں 300 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار