ہلاک ہونے والوں میں تین جنرل اور ایک بریگیڈیئر جنرل شامل ہیں۔ دھماکے سے فوج کے زیر استعمال عمارت بھی گر گئی۔ دوسری طرف شامی حزب اختلاف کے وزیردفاع اسعد مصطفی نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی فوج نے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں پر قبضے کے لیے منظم چڑھائی کررکھی ہے۔
اسعد مصطفی نے العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ پر بڑے منظم انداز میں چڑھائی کی گئی ہے۔ اس حملے میں مسلح فورسز کی بھاری نفری شریک ہے اور وہ توپخانے سے شدید گولہ باری کررہی ہے۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار