غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں خودکش دھماکا ٹھیک اس مقام پر ہوا ہے جہاں اگلے ہفتے قبائلی رہنماؤں کا امریکی حکام کے ساتھ 2014 غیر ملکی فوج کے انخلا سے متعلق بات چیت کےلئے لویہ جرگہ منعقد کئے جانے کا امکان تھا، افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے بھری کار بس سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس اور فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
ترجمان کا کہناہے کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے،اس سے قبل افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع چپرہار میں بھی کار بم دھماکے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…