غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں خودکش دھماکا ٹھیک اس مقام پر ہوا ہے جہاں اگلے ہفتے قبائلی رہنماؤں کا امریکی حکام کے ساتھ 2014 غیر ملکی فوج کے انخلا سے متعلق بات چیت کےلئے لویہ جرگہ منعقد کئے جانے کا امکان تھا، افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے بھری کار بس سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس اور فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
ترجمان کا کہناہے کہ زخمیوں کو طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے،اس سے قبل افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع چپرہار میں بھی کار بم دھماکے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…